سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 282
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 282 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ احترام فرماتے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔چنانچہ حضرت زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم امیر المومنین حضرت عمر کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دبلا پتلا پستہ قد شخص مجلس میں آیا ان کی طرف دیکھ کر حضرت عمر کا چہرہ تمتما اٹھا اور فرمانے لگے علم سے بھرا ہوا برتن، علم سے بھرا ہوا برتن۔آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ فرمائے اور جب وہ بزرگ قریب آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ بزرگ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ تھے۔(28) سنت رسول ع کی پابندی حضرت عبد اللہ بن مسعود سنت نبوی پر خوب کار بند تھے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول کریم ہے کے دو صحابہ میں سے ایک صحابی روزہ افطار کرنے میں بھی جلدی کرتا ہے یعنی غروب آفتاب کے ساتھ ہی افطار کرتا ہے اور نماز بھی جلدی ادا کر لیتا ہے۔( یعنی غروب آفتاب کے معاً بعد )۔جبکہ ایک دوسرے صحابی یہ دونوں کام نسبتا تاخیر سے کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے پوچھا کہ جلدی کون کرتا ہے بتایا گیا کہ عبداللہ بن مسعود ایسا کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی کریم مو کا بھی یہی دستور تھا۔(29) سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کے شوق و جذب کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ سے جب یہ سوال کیا جاتا کہ نبی کریم ﷺ سے عادات و خصائل اور سیرت و شائل کے لحاظ سے آپ کے صحابہ میں سے قریب ترین کون ہے جس کا طریق ہم بھی اختیار کریں تو حضرت حذیفہ بیان فرماتے تھے کہ میرے علم کے مطابق چال ڈھال گفتگو اور اخلاق واطوار کے لحاظ سے عبداللہ بن مسعود نبی کریم علی جوے کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم فرماتے تھے کہ مجھے اپنی امت کیلئے وہی باتیں پسند ہیں جو عبد اللہ بن مسعود کو مرغوب ہیں۔(30) بزرگ صحابہ کہا کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ سے قرب اور تعلق میں غیر معمولی مقام رکھتے ہیں۔نبی کریم ﷺ اپنے جن صحابہ کے نمونہ کو شعل راہ بنانے کیلئے بطور خاص ہدایت فرماتے