سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 256
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 256 حضرت شماس بن عثمان قریشی حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ حضرت شماس کا اصل نام تو اپنے والد کے نام پر عثمان تھا۔مگر سرخ وسفید رنگ میں اتنے حسین اور خوبصورت تھے کہ چہرہ سورج کی طرح دمکتا تھا۔یہاں تک کہ ان کا لقب ہی شمس اور پھر شماس پڑ گیا یعنی سورج کی طرح روشن چہرہ والے۔آپ قبیلہ بنی مخزوم میں سے تھے۔والدہ صفیہ بنت ربیعہ بنو عبد شمس میں سے تھیں۔اہلیہ ام حبیب ابتدائی ہجرت کرنے والی مسلمان خواتین میں سے تھیں۔انہوں نے ابتدائی زمانے میں ہی قبول اسلام کی سعادت حاصل کی ہے۔(1)اہل مکہ کی مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر حبشہ ہجرت کرنا پڑی۔حبشہ ہجرت کرنے والے دوسرے گروہ میں حضرت شماس بھی شامل تھے۔(2) بعد میں انہوں نے مدینہ ہجرت کی بھی توفیق پائی۔یہاں آکر محلہ بنی عمرو بن عوف میں ٹھہرے اور حضرت مبشر بن عبدالمنذر کے پاس قیام کیا۔غزوہ بدر کا موقع آیا تو اس میں شامل ہوئے ، پھر غزوہ اُحد میں شرکت کی اور جام شہادت نوش کیا۔آخر وقت تک بنی عمرو بن عوف میں ہی قیام رہا۔آنحضرت ﷺ نے حنظلہ بن ابی عامر کے ساتھ ان کی مواخات قائم کر کے اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک فرمایا تھا۔حفاظت رسول میں جان کی قربانی حضرت شماس بدر اور احد میں نہایت دلیری اور بہادری کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔مگران کی غیر معمولی خدمت جو ان کے روشن چہرے کی طرح انکے سیرت اور کردار کو چار چاند لگا گئی اور ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ان کا نام زندہ کرنے والی بن گئی وہ ان کا احد کے میدان میں آنحضرت علی کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو جانا ہے۔میدان احد میں آنحضرت ﷺ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑنے والوں میں جہاں مشہور تیرانداز حضرت ابوطلحہ انصاری تھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ہاشمی بھی تھے جنہوں نے اپنا ہاتھ بطور ڈھال آنحضرت ﷺ کے چہرے کے سامنے کر رکھا تھا اور ہر آنے والا تیر اپنے ہاتھ پر لیتے تھے۔وہاں حضرت شمس بھی ہیں جو آنحضرت ﷺ کے آگے اس