سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 257 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 257

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 257 حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ طرح سینہ سپر ہو گئے کہچھو حضور نے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ "شماس کو اگر میں کسی چیز سے تشبیہ دوں تو اسے ڈھال سے تشبیہ دے سکتا ہوں کہ وہ احد کے میدان میں میرے لیے ایک ڈھال ہی تو بن گیا تھا اور میرے آگے پیچھے دائیں اور بائیں ہو کر حفاظت کرتے ہوئے آخر دم تک لڑتا رہا۔آنحضرت یہ جدھر نظر ڈالتے شماس آپ کو نہایت بہادری اور دلیری سے لڑتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔آپ نے دیکھا کہ جو حملہ آور بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا شماس اپنی تلوار کے ساتھ مقابلہ کر کے ان کو پیچھے ہٹاتا ہے۔ظاہر ہے دشمن کا ہدف رسول کریم ﷺ کی ذات تھی۔جب وہ آنحضور ﷺ پرحملہ میں کامیاب ہوئے اور زخمی ہونے کے بعد رسول کریم ﷺ پر غشی کی کیفیت طاری ہوگئی ، تب بھی شماس آگے ڈھال بن کر کھڑے رہے یہاں تک کہ خود شدید زخمی ہو گئے۔اس حالت میں ان کو مدینے لایا گیا اور حضرت عائشہ کے گھر میں تیمارداری کے لئے رکھا گیا۔حضرت ام سلمہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں میرے گھر میں ان کی تیمار داری ہونی چاہیے۔چنانچہ وہیں ان کی تیمارداری ہوئی۔اس شدید زخمی حالت میں ایک دن اور ایک رات اس طرح گذارا کہ وہ کچھ کھا پی نہ سکتے تھے۔اسی حال میں ان کی وفات ہو گئی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شماس کو بھی اس کے کپڑوں میں ہی دفن کیا جائے ، جس طرح دوسرے شہداء کو بھی انکے لباس میں دفن کیا گیا۔نیز فرمایا کہ شہداء کی طرح ان کی کوئی الگ نماز جنازہ بھی نہیں ہوگی۔اور تدفین بھی میدان احد میں کی جائے جہاں دیگر شہداء احد کی تدفین ہوئی۔گویا حضور ﷺ نے انکو ہر پہلو سے شہداءاُحد کے زمرے میں شامل فرمایا۔اس خوش بخت حسین و جمیل جوان رعنا کی عمر صرف چون نیسبرس تھی جب وہ اپنے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر فدا ہو گیا۔(3) اس جوان موت سے حضرت شماس کے اہل و عیال اور بہن بھائیوں کو صدمہ ہونا طبعی امر تھا۔حضرت حسان بن ثابت نے اس پر مرثیہ کہا جس میں ان کی بہن کو تعزیت کرتے ہوئے وہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ اے شماس کی بہن ! صبر کرو، دیکھو شماس بھی تو ایک انسان تھا۔وہ بھی حضرت حمزہ کی طرح آنحضرت ﷺ پر فدا ہو گیا ہے۔پس یہ ایک صبر کا معاملہ ہے تم بھی اس پر صبر کرو۔یہ