سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 13
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 13 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں یہ حقیقت واضح ہونی چاہیئے تھی کہ وہ دل سے خلافت کے وفادار اور مطیع ہیں۔ان میں حضرت علیؓ، حضرت فاطمہ ، اور حضرت زبیر قابل ذکر تھے۔پہلا خطاب حضرت ابو بکر نے مسجد نبوی میں لوگوں کو اکٹھا کیا۔حضرت علی اور حضرت زبیر کے بارے میں پوچھا کہ وہ بھی موجود ہیں۔پھر بطور خاص انہیں بلوایا گیا۔حضرت ابو بکڑ نے نہایت اثر انگیز خطاب کیا۔آپ نے فرمایا:۔وَاللهِ مَا كُنتُ حَرِيضًا عَلَى إِلامَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً قَطُّ۔۔۔الخ کہ خدا کی قسم ! مجھے کبھی بھی خلافت کے لئے خواہش یا رغبت پیدا نہیں ہوئی۔نہ ہی کبھی میں نے پوشیدہ یا اعلانیہ اس کا مطالبہ کیا۔ہاں فتنہ سے ڈرتے ہوئے میں نے اسے قبول کر لیا ہے مگر یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے جس کی مجھے طاقت نہیں پھر بھی میں نے اٹھا لیا ہے۔اب سوائے اس کے کہ اللہ مجھے طاقت دے مجھ میں تو اس کی ہمت نہیں اور میں تو اب بھی چاہتا ہوں کہ تم میں سے اگر کوئی اور طاقتور اور ہمت والا ہے جو اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے تو اٹھا لے۔“ یہ بہت ہی اثر انگیز خطاب تھا جس کے آخر میں آپ نے حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا اے علی ! داماد رسول! کیا آپ پسند کرو گے کہ مسلمانوں کی قوت پراگندہ ہو۔پھر حضرت زبیر سے بھی یہی سوال کیا۔ان دونوں نے کہا ” ہمارے دل میں صرف اتنی بات تھی کہ جب یہ مشورہ (خلافت) ہوا تو ہمیں اس میں شریک نہیں کیا گیا ورنہ ہماری بھی یہی رائے تھی اور ہے کہ حضرت ابوبکڑ ہی اس خلافت کے زیادہ اہل اورمستحق ہیں کہ آنحضرت نے انہیں اپنی زندگی میں امام بنایا اور وہ غار حرا میں رسول اللہ کے ساتھی تھے اور قرآن میں انہیں دو میں سے دوسرے“ کہہ کر یاد کیا گیا ہے۔پھر ان دونوں بزرگان اہل بیت نے اعلانیہ بیعت کی۔(34) یوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔حضرت علیؓ کے اس موقع پر موجود نہ ہونے کی ایک وجہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کی علالت میں ان کی تیمارداری بھی تھی۔نیز اس عرصہ میں انہوں نے گھر میں رہتے ہوئے جمع