سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 250
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 250 حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد آپ کا تعلق قبیلہ بنی مخزوم سے تھا اصل نام عبد اللہ بن عبدالاسد اور کنیت ابوسلمہ تھی۔والدہ برہ بنت عبد المطلب آنحضرت ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اس لحاظ سے حضرت ابو سلمہ آنحضرت علیہ کے پھوپھی زاد تھے۔آنحضرت علی ، حضرت حمزہ اور ابو سلمہ نے ابولہب کی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا تھا اسلئے ابوسلمہ حضور ﷺ کے رضاعی بھائی بھی تھے اور قریباً ہم عمر تھے۔آپ کی بیوی ھند بنت ابی امیہ قبیلہ بنی مخزوم میں سے تھیں اور ام سلمہ کے نام سے معروف تھیں جواحد میں حضرت ابو سلمہ کی شہادت کے بعد آنحضرت ﷺ کے عقد میں آئیں اور ام المومنین کا مرتبہ پایا۔(1) قبول اسلام اور صبر و استقامت حضرت ابوسلمہ نے بہت ابتدائی زمانے میں گیارہویں نمبر پر اسلام قبول کیا تھا۔اس وقت آنحضرت عے بھی دارارقم میں نہیں گئے تھے اور وہاں تبلیغ کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا تھا۔قبول اسلام کے بعد مکہ میں جس طرح دیگر تمام صحابہ کو دکھوں اور اذیتوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا کچھ یہی حال حضرت ابو سلمہ کا ہوا۔آپ نے اپنے ماموں حضرت ابو طالب کی پناہ لی۔قبیلہ بنی مخزوم کے لوگ حضرت ابوطالب کے پاس آئے کہ آپ نے ان کو کیوں پناہ دی ؟ جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو ابولہب نے ( باوجود یکہ ساری عمر اسلام کی مخالفت میں ہی گذاری ) پہلی دفعہ کسی مسلمان کی طرف داری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابو طالب ان کو پناہ دیتا ہے تو اسے کچھ نہ کہو ورنہ میں بھی اس کا ساتھ دوں گا۔(2) چنانچہ ابوسلمہ ابو طالب کی پناہ میں ایک عرصے تک رہے۔اس کے بعد جب ہجرت حبشہ کا موقعہ آیا تو ابوسلمہ ابتدائی مہاجرین میں شامل تھے۔اپنی بیوی حضرت ام سلمہ کو ساتھ لے کر انہوں نے حبشہ ہجرت فرمائی۔وہاں سے واپسی ہوئی تو آنحضرت ﷺ کے مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے ہی ابوسلمہ نے مدینہ ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔آپ اولین ہجرت کرنے والوں میں