سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 251
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 251 حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ سے تھے ( 3 ) ان کی ہجرت کا واقعہ نہایت دردناک ہے۔داستان ہجرت حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ مکہ میں جب اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تو ابوسلمہ نے اور میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا۔اپنی سواری کا اونٹ تیار کیا ، ابوسلمہ نے مجھے اور میرے بیٹے سلمہ کو جو میری گود میں تھا سوار کروایا اور یوں یہ چھوٹا سا قافلہ ہجرت کیلئے روانہ ہوا۔جب بنو مغیرہ کے قبیلے نے دیکھا کہ یہ لوگ ہجرت کر کے مدینہ جاتے ہیں تو وہ اور بنومخزوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے ابو سلمہ اپنی جان کے تو تم خود مالک ہو لیکن ہمارے قبیلے کی عورت ام سلمہ کو تم کیوں کر اپنے ساتھ لے کر جاتے ہو کہ یہ دنیا کا سفر کر کے خاک چھانتی پھرے اور ذلیل ورسوا ہو ہم تو اپنی اس بیٹی کو تمہارے ساتھ جانے نہ دیں گے۔خود جاتے ہو تو جاؤ۔“ اس طرح ام سلمہ کے گھر والوں نے انہیں ابو سلمہ سے الگ کر لیا اور ابوسلمہ مدینہ روانہ ہو گئے۔ام سلمہ کہتی ہیں ان کے پیچھے میرا برا حال ہوا ابوسلمہ کے قبیلہ کے لوگ آگئے۔انہوں نے کہا کہ مسلمہ ہمارا بیٹا اور ہمارا خون ہے۔یہ ہمارے حوالے کر دو۔الغرض اس خاندان کے بکھرنے کی عجیب صورت پیدا ہوئی۔ابوسلمہ پہلے ہی مدینہ جاچکے تھے ، ام سلمہ کو والدین اپنے ہاں لے گئے اور ان کے معصوم کم سن بچے سلمہ کو ددھیال والے چھین کر لے گئے۔حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کی قربانی کی یاد ایک دفعہ پھر تازہ ہوگئی۔حضرت ام سلمہ کا بیان ہے کہ " عجیب پریشانی کی کیفیت میرے لئے پیدا ہوئی۔میرے بیٹے اور خاوند کے درمیان ایسی جدائی پڑی کہ میں تنہا سخت بے چین ہو کر ہر صبح با ہر میدان میں نکل جایا کرتی اور وہاں بے اختیار رویا کرتی تھی۔ایک سال تک میرا یہ حال رہا جسے دیکھ کر لوگوں کو بھی ترس اور رحم آنے لگا یہاں تک کہ ایک سال کے بعد میرے ایک چچا زاد بھائی نے میرے قبیلے کے لوگوں سے کہا خدا کے بندو! تم کیوں اس عاجز مسکین عورت کو آزاد نہیں کرتے ، تب انہیں کچھ رحم آیا انہوں نے کہا اگر تم چاہتی ہو تو اپنے خاوند کے پاس مدینہ چلی جاؤ۔اسی دوران ددھیال کو بھی کچھ احساس ہوا اور انہوں نے میرا بیٹا بھی میرے حوالے کر دیا اور میں مدینے جانے کیلئے تیار ہوگئی مگر میں تنہا تھی میرے ساتھ مدینہ جانے والا کوئی بھی نہ تھا، تنہا عورت