سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 248
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 248 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ یہ اس کے سلام کا جواب دیں گئے۔(19) اے مصعب بن عمیر ! تجھ پر سلام اے مبلغ اسلام اور اسلامی جھنڈے کے وفا شعار محافظ تجھ پر ہزاروں سلام۔شہید احد، ماں باپ کے ناز و نعم کے پالے مصعب کا اس عالم بے ثبات سے رخصتی کا منظر بھی دیدنی تھا۔مکہ میں بہترین لباس زیب تن کر نیوالے مصعب کو آخری دم پورا کفن بھی میسر نہیں آیا۔فتوحات کے بعد جب مسلمانوں کو مالی کشائش اور فراخی عطا ہوئی صحابہ رسول مصعب کی قربانیوں اور اپنی اس بے چارگی کا عالم یاد کر کے اکثر رو پڑتے تھے کہ ہم اپنے بھائی مصعب کو پورا کفن بھی مہیا نہ کر سکے تھے۔چنانچہ حضرت خباب کہا کرتے تھے کہ ہم نے نبی کریم کے ساتھ محض رضائے الہی کی خاطر ہجرت کی اور ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہو گیا۔مگر ہم میں سے بعض فوت ہو گئے اور انہوں نے اس اجر سے دنیا میں کوئی حصہ نہیں پایا۔ان میں ایک مصعب بن عمیر بھی تھے جو احد کے دن شہید ہوئے اور ہمیں ان کے کفن کے لئے سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ آیا۔اور چادر بھی اتنی مختصر کہ اس سے مصعب کا سر ڈھانکتے تو پاؤں نظر آنے لگتے اور پاؤں ڈھا سکتے تو چہرہ ننگا رہتا۔چنانچہ نبی کریم نے فرمایا کہ سرڈھانک دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال کر انہیں دفن کیا۔(20) حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سامنے ایک دفعہ جب روزہ کی افطاری کے وقت اعلی قسم کا کھانا پیش کیا گیا۔(شاید انہیں مسلمانوں کی کم مائیگی کا وہی وقت یاد آ گیا )۔تو کہنے لگے مصعب بن عمیر شہید ہوئے وہ مجھ سے بدرجہا بہتر تھے۔مگر انکے کفن کیلئے صرف ایک چادر میسر آئی۔مگر ہمارے لئے دنیا اتنی فراخ کر دی گئی کہ ڈر لگتا ہے کہیں ہماری نیکیوں کے بدلے اسی دنیا میں ہی نہ دے دیئے جائیں۔پھر آپ رونے لگ پڑے اور کھانا نہیں کھایا۔(21) جب میں ان پوشاکوں اور خلعتوں کا سوچتا ہوں جو اس شہید احد کو رب العزت کے دربار میں عطا ہوئی ہونگی تو بے اختیار دل سے پھر یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ آفرین صد آفرین۔اے اسلام کے عظیم الشان بطل جلیل مصعب بن عمیر تجھ پر آفرین! کہ تو نے خصوصاً نو جوانوں کے لئے اپنے خوبصورت نمونے سے، ماں باپ کی قربانی، مال و دولت کی قربانی ، سادگی، وفا ایثار اور کامیاب دعوت الی اللہ کے