سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 204
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 204 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ خود داری اور دعا کی برکت ہجرت مدینہ کے بعد دیگر مسلمانوں کی طرح حضرت حمزہ کے مالی حالات بھی دگرگوں تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک روز انہی ایام میں حضرت حمزہ نبی کریم نے کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کوئی خدمت میرے سپر دفرما دیجئے تاکہ ذریعہ معاش کی کوئی صورت بھی پیدا ہو۔نبی کریم ﷺ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ آپ کے اقارب اس تنگی کے زمانہ میں مسلمانوں پر بوجھ ہوں۔آپ نے حضرت حمزہ سے فرمایا کہ اپنی عزت نفس قائم اور زندہ رکھنا زیادہ پسند ہے یا اسے ماردینا۔حضرت حمزہ نے عرض کیا ” میں تو اسے زندہ رکھنا ہی پسند کرتا ہوں۔‘ آپ نے فرمایا ” پھر اپنی عزت نفس کی حفاظت کرو گویا محنت وغیرہ کے ذریعہ سے کام لو۔(5) نبی کریم ﷺ نے اس دور میں آپ کو دعاؤں پر زور دینے کی بھی تحریک فرمائی اور بعض خاص دعائیں سکھائیں۔چنانچہ حضرت حمزہ کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا تھا کہ اس دعا کو لازم پکڑو۔اللَّهُمَّ إِنِّي اَسْتَلْكَ بِاسْمِكَ الاَعظَمِ وَرِاضْوَانِكَ الْأَكَبَرِ یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے اسم اعظم (سب سے بڑے نام) کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیری سب سے بڑی رضامندی چاہتا ہوں۔(6) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت حمزہ کو دعاؤں پر کتنا ایمان اور یقین تھا اور کیوں نہ ہوتا جبکہ ان دعاؤں ہی کی برکت سے بظاہر اس تہی دست اور تہی دامن مہاجر کو اللہ تعالیٰ نے گھر بار اور ضرورت کا سب کچھ عطا فر مایا کچھ عرصہ بعد حضرت حمزہ نے بنی نجار کی ایک انصاری خاتون خولہ بنت قیس کے ساتھ شادی کی۔نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں حضرت حمزہ سے ملاقات کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔حضرت خولہ بعد میں نبی کریم ﷺ کی اس دور کی محبت بھری باتیں سنایا کرتی تھیں۔فرماتی تھیں ایک دفعہ آنحضرت ہمارے گھر تشریف لائے میں نے عرض کیا اے خدا کے رسول مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کو حوض کوثر عطا کیا جائے گا جو بہت