سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 195 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 195

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 195 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نہ تھا۔(8) غزوہ احد کے بعد کے غزوات میں بھی حضرت طلحہ نمایاں خدمات کی توفیق پاتے رہے۔حدیبیہ فتح مکہ اور حنین میں بھی آپ شریک تھے اور غزوہ احد کی طرح حنین میں بھی جب لوگوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو طلحہ ثابت قدم رہے۔9 ہجری میں قیصر روم کے حملہ کی خبر سن کر رسول کریم علی نے صحابہ کو غزوہ تبوک کی تیاری کا حکم دیا۔حضرت طلحہ نے اس موقع پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایک بیش بہا ر تم پیش کر دی اور بارگاہ رسالت سے فیاض کا لقب پایا۔اسی دوران منافقین نے مسلمانوں کے خلاف ایک یہودی کے مکان پر جمع ہو کر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں تو رسول کریم علی نے حضرت طلحہ گو یہ فرض سونپا کہ وہ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جا کر ان لوگوں کا قلع قمع کریں۔آپ کو کامیابی کے ساتھ یہ خدمت سر انجام دینے کی توفیق ملی۔(9) وصال رسول ﷺ اور خلافت ابو بکر حجۃ الوداع میں بھی حضرت طلحہ اپنے آقا کے ہمرکاب تھے۔حج سے واپسی پر مدینہ پہنچ کر رسول کریم ﷺ کا وصال ہوا۔دیگر صحابہ کی طرح اس عظیم سانحہ سے حضرت طلحہ گو جو صدمہ پہنچا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سقیفہ بنو ساعدہ میں خلافت کیلئے مشورہ ہورہا تھا ، عاشق رسول ﷺ حضرت طلحہ جیسا جری انسان اپنے آقا کی جدائی میں دل گرفتہ کسی گوشہ تنہائی میں آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر رہا تھا۔خلافت سے اخلاص و وفا حضرت ابوبکر خلیفہ الرسول منتخب ہوئے تو طلحہ الخیر ان کے دست و باز و ثابت ہوئے۔آپ محض اللہ جس بات کو حق سمجھتے بے لاگ اپنی رائے پیش کر دیا کرتے تھے۔چنانچہ جب حضرت ابوبکر نے اپنی آخری بیماری میں حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کیا۔تو یہ حضرت طلحہ ہی تھے جنہوں نے حضرت عمرؓ کی طبیعت کی سختی کا اندازہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر سے یہ عرض کی کہ آپ خدا کو کیا جواب دیں گے کہ اپنا جانشین کے مقرر کر آئے ہیں؟ حضرت ابوبکر کا فیصلہ بھی چونکہ خالصتا تقویٰ پرمبنی تھا آپ نے بھی کیا خوب جواب دیا فرمایا ”میں خدا سے کہوں گا کہ میں تیرے بندوں پر اس شخص کو امیر مقرر کر آیا