سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 188
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں زخمی نہ ہوا ہو۔(15) خشیت الهی 188 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ حد درجہ احتیاط اور خشیت الہی کا یہ عالم تھا کہ آپ آنحضرت ﷺ کی روایات بھی کثرت سے بیان نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے عرض کیا کہ دیگر صحابہ کی طرح کثرت سے احادیث کیوں بیان نہیں کرتے فرمایا جب سے اسلام لایا ہوں رسول اللہ علی سے جدا نہیں ہوا۔مگر رسول اللہ نے کی اس تنبیہہ سے ڈرتا ہوں۔کہ جس نے میری طرف غلط بات منسوب کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔“ (16) خدا خوفی ، حق پسندی، بے نیازی ، سخاوت اور ایثار حضرت زبیر کے خاص اوصاف تھے۔آپ کی شجاعت اور مردانگی کا ذکر گزر چکا ہے۔اسکندریہ کے محاصرہ نے طول کھینچا تو آپ نے سیڑھی لگا کر قلعے کی فصیل پار کرنا چاہی ساتھیوں نے کہا کہ قلعے میں سخت طاعون کی وبا ہے؟ آپ نے بے دھڑک فرمایا کہ ہم بھی طعن و طاعون کے لئے ہی آئے ہیں۔پھر موت کا کیا خوف یہ کہا اور سیڑھی لگا کر دیوار پر چڑھ گئے۔(17) حضرت زبیر گو رسول اللہ ﷺ نے جو حواری رسول کا لقب عطا فر مایا تھا۔آپ کے اس ساتھی میں آنحضور ﷺ کے پاکیزہ اخلاق جلوہ گر تھے۔امانت و دیانت کا یہ عالم تھا کہ لوگ کثرت سے امانتیں آپ کے پاس رکھتے تھے۔فیاضی وعطا حضرت زبیر مالدار انسان تھے۔مگر اس سے کہیں بڑھ کر وہ فیاض تھے۔آپ کے ایک ہزار غلام تھے جو روزانہ اجرت پر کام کر کے خاص رقم لے کر آتے تھے مگر کبھی آپ نے یہ مال اپنے اوپر خرچ کرنا پسند نہ کیا بلکہ جو آ تاوہ خدا کی راہ میں صدقہ کر دیتے۔اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔مال غنیمت سے بھی اس بہادر مجاہد نے بہت حصے پائے۔آپ کے تمام اموال کا تخمینہ اس زمانے میں پانچ کروڑ دولاکھ درہم مکانات اور جائیداد غیر منقولہ کی