سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 181 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 181

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 181 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نام ونسب حضرت زبیر بن العوام آپ کا نام زبیر والد کا نام عوام اور والدہ کا نام صفیہ تھا کنیت ابوعبداللہ تھی۔نسب پانچویں پشت میں نبی کریم ﷺ سے مل جاتا ہے۔آپ کی والدہ حضرت صفیہ انحضرت ﷺ کی پھوپھی تھیں۔اور ام المومنین حضرت خدیجہ کے آپ حقیقی بھیجے تھے۔حضرت ابو بکر کے داماد ہونے کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ سے ہم زلف ہونے کی نسبت بھی تھی۔آپ ہجرت نبوی سے 28 سال قبل پیدا ہوئے۔والد بچپن میں انتقال کر گئے تھے۔والدہ نے تربیت میں تادیب اور سختی سے کام لیا۔آپ کہا کرتی تھیں کہ اس کا مقصد زبیر کو ایک دانا اور بہادر انسان بنانا ہے۔لڑکپن کا واقعہ ہے مکہ میں ایک نوجوان کے ساتھ آپ کا جھگڑا ہو گیا۔اس کو ایسا کہ مارا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔حضرت صفیہ کو خبر پہنچی تو اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے انہوں نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا۔شکایت کرنے والوں سے پوچھا پہلے بتاؤ کہ تم نے زبیر کو کیسا پایا۔بہادر یا بزدل؟ (1) حضرت زبیر کا قد لمبا تھا سواری پر بیٹھتے تو پاؤں زمین کو چھوتے اور رنگ سفید، جسم ہلکا پھر تیلا ، رخسار ہلکے، داڑھی بھی ہلکی اور سرخی مائل تھی۔(2) قبول اسلام اور تکالیف حضرت زبیر نے سولہ برس کی عمر میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر اسلام قبول کیا۔اور قبول اسلام میں سبقت لینے والوں میں آپ کا ممتاز مقام تھا۔کم سن ہونے کے باوجود بہادری اور جانثاری آپ کا طرہ امتیاز تھی۔مکہ میں ابتداء میں آپ کی مؤاخات حضرت عبد اللہ بن مسعود سے ہوئی۔قبول اسلام کے بعد کوئی ایسا غزوہ نہیں ہوا جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت نہ کی ہو۔(3) اسلام کے ابتدائی زمانہ مخالفت کی بات ہے کسی نے مشہور کر دیا کہ نبی کریم کو مشرکین نے