سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 171
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 171 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پرندے جیسی کوئی چیز۔حضرت سعد نے کہا مجھے تو اونٹ پر سوار نظر آتا ہے، کچھ دیر بعد واقعی سعد کے چا اونٹ پر آئے۔آپ بہت نڈر اور جری انسان تھے۔جس بات کو حق سمجھتے اس کا اظہار فرماتے۔ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں میں مال تقسیم کیا اور ایک ایسے شخص کو کچھ عطا نہ فرمایا جو سعد کے نزدیک مخلص مومن تھا۔انہوں نے آنحضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ٹال دیا جب دوسری یا تیسری مرتبہ سعد نے باصرار اپنا سوال دہرایا کہ یہ شخص میرے نزدیک مخلص مومن ہے اور عطیہ کا حقدار ہے تو حضور نے فرمایا کہ اے سعد! بسا اوقات میں ان کو عطا کرتا ہوں جن سے تالیف قلبی کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کو چھوڑ دیتا ہوں جو مجھے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔تب حضرت سعد کی تسلی ہوئی۔حضرت سعدان بزرگ صحابہ میں سے تھے جن سے بوقت وفات رسول اللہ راضی تھے۔رسول کریم ﷺ نے حجتہ الوداع سے واپسی پر مدینہ میں ایک خطبہ میں عشرہ مبشرہ کے نام لے کر ذکر فرمایا کہ آپ ان سے راضی ہیں۔ان کا مقام پہچانو اور ان سے حسن سلوک کرو۔ان میں حضرت سعد کا بھی لیا۔کتنے خوش نصیب تھے سعد اور اسم بامسمی بھی کہ خدا کے رسول نے ان سے راضی ہونے کا اعلان کر کے رضائے الہی کی کلید ان کو عطا فرما دی۔(18) -1 -2 -3 حواله جات ترندی کتاب المناقب باب مناقب سعد، اسد الغا به جلد 2 ص 390 بخاری کتاب المناقب باب مناقب سعد، اسد الغابہ جلد 3 ص 390 تا392 ابن سعد جلد 3 ص 139 -4 مسلم کتاب الفضائل باب فضل سعد، اسد الغا به جلد 3 ص 292 -5 اسد الغابہ جلد 2 ص 391