سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 165
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 165 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہ میں ڈر گیا ہوں اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سعد بڑا تجربہ کا آدمی ہے۔(10) حضرت سعد بجا طور پر اپنی ان خدمات کو ایک سعادت جانتے تھے۔جس کا اظہار انہوں نے اپنے ان اشعار میں بھی کیا ہے۔وَلَا هَلْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي حَمَيْتُ صَحَابِتِي بِصُدُورِ نَبْلِي اذُودُ بِهَا عَدُوِّهُمْ زِيَادًا بِكُلِّ حَزُونَةٍ وَ بِكُلِّ سَهْلِ فَمَا يَعتَدُّ رَامٍ مِنْ مَعَدٍ بِسَهِم مَعَ رَسُولِ اللَّهِ قَبْلِي (ترجمہ) سنو! رسول اللہ علیہ پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا میں نے اپنے تیروں کی نوک سے اپنے ساتھیوں کا دفاع کیا۔ان تیروں سے میں نے خوب خوب ان کے دشمن کو میدانوں اور پہاڑوں میں پسپا کیا۔معد قبیلہ کے کسی قابل ذکر تیرانداز کو مجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی معیت کی ایسی سعادت عطا نہیں ہوئی۔(11) صلى الله رسول اللہ ﷺ کی دعا اور با عمر ہونے کی پیشگوئی فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعد شدید بیمار ہو گئے۔بچنے کی کوئی امید نہ رہی۔آپ مالدار انسان تھے اور اولا د صرف ایک بیٹی تھی ، آپ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا پورا مال خدا کی راہ وقف کرنے کی اجازت چاہی۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ بہت زیادہ ہے۔حضرت سعد نے کہا نصف مال ہی قبول کر لیں۔حضور نے وہ بھی قبول نہ فرمایا تو حضرت سعد نے ایک تہائی کی وصیت کی اجازت طلب کی۔حضور نے فرمایا کہ ٹھیک ہے ایک تہائی مال کی وصیت کر دیں اگر چہ یہ بھی بہت ہے۔اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔اس موقع پر نبی کریم ﷺے ان کی عیادت کیلئے تشریف لائے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد کیلئے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے نتیجہ میں عجب رحمت و برکت کے سامان پیدا فرما دئے۔انہوں نے نہایت حسرت بھری اشکبار آنکھوں کے ساتھ یہ عرض کیا یا رسول اللہ اپنے وطن کی جس سرزمین کو خدا کی خاطر ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا تھا اب میں اسی میں خاک ہو جاؤں گا۔کیا میری ہجرت ضائع ہو جائے گی ؟ حضرت سعدؓ کے اس انداز نے رسول اللہ عے کے دل میں دعا کی بے اختیار تڑپ پیدا کر دی۔