سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 160
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 160 حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت سعد کے والد مالک بن وھیب کا تعلق قریش کی شاخ بنوزہرہ سے تھا۔اس لحاظ سے آپ رشتہ میں رسول اللہ کے ماموں تھے۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ بھی بنوزہرہ قبیلہ سے اور حضرت سعد کی چچازاد تھیں۔ایک دفعہ حضرت سعد کے تشریف لانے پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ میرے ماموں ہیں کوئی اور شخص مجھے اپنا ایسا ماموں تو دکھائے۔والدہ حمنہ بنت سفیان بن امیہ بھی قریش سے تھیں۔کنیت ابو اسحاق تھی۔(1) قبول اسلام اور قربانی حضرت سعد نے چوتھے اور چھٹے سال نبوت کے درمیان اسلام قبول کیا۔اس وقت آپ سترہ برس کے نوجوان تھے۔خود بیان کرتے تھے کہ میں نے نماز فرض ہونے سے بھی پہلے اسلام قبول کیا تھا۔آپ کا اسلام قبول کرنا بھی الٹمی تحریک کے نتیجہ میں تھا۔آپ بیان کرتے تھے کہ اسلام سے قبل میں نے رویا میں دیکھا کہ گھپ اندھیرا ہے اور مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ اچانک ایک چاند روشن ہوتا ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگتا ہوں۔کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ مجھ سے پہلے اس چاند تک پہنچے ہوئے ہیں۔قریب جا کر معلوم ہوا کہ وہ زید بن حارثہ علی بن ابی طالب اور ابوبکر تھے۔میں ان سے پوچھتا ہوں کہ تم لوگ کب یہاں پہنچے؟ وہ کہتے ہیں بس ابھی پہنچے ہی ہیں۔“ اس خواب کے کچھ عرصہ بعد مجھے پتہ چلا کہ رسول الله علی مخفی طور پر اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ایک روز میری آپ سے اجیاد گھائی میں ملاقات ہوئی۔آپ نے اسی وقت نماز عصر ادا کی اور میں نے اسلام قبول کیا۔مجھ سے پہلے سوائے ان تین مردوں کے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔(2) رض حضرت سعد فرماتے تھے کہ میں نے تیسرے نمبر پر اسلام قبول کیا اور سات دن تک مجھ پر ایسا وقت رہا کہ میں اسلام کا تیسرا حصہ تھا۔(3)