سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 161
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 161 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے پر ابتلاء حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی والدہ سے نہایت نیکی اور احسان کا سلوک کرتا تھا۔جب میں نے اسلام قبول کیا تو وہ کہنے لگی تم نے یہ نیاد دین کیوں اختیار کر لیا ہے۔تجھے بہر حال یہ دین چھوڑنا پڑے گا۔ورنہ میں نہ کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں گی اور لوگ تمہیں ماں کے قتل کا طعنہ دیں گے۔میں نے کہا اے میری ماں ایسا ہر گز نہ کرنا کیونکہ میں اپنا دین نہیں چھوڑ سکتا۔مگر وہ نہ مانی حتی کہ تین دن اور رات گزر گئے اور والدہ نے کچھ کھایا نہ پیا صبح ہوئی تو وہ بھوک سے نڈھال تھیں۔تب میں نے کہہ دیا کہ خدا کی قسم اگر آپ کی ہزار جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکلیں تو بھی میں اپنا دین کسی چیز کی خاطر نہیں چھوڑوں گا۔جب انہوں نے بیٹے کا یہ عزم دیکھا تو کھانا پینا شروع کر دیا۔اس موقع کی مناسبت سے یہ آیت اتری۔وَإِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (المان (16) یعنی اگر وہ ( والدین) تجھ سے جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی بات نہ مان اور دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھ۔(4) شجاعت و مردانگی ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نماز ادا کرنے کیلئے مختلف گھاٹیوں میں چلے جاتے اور یوں اپنی قوم سے مخفی نماز با جماعت ادا کرتے۔ایک دفعہ حضرت سعد بن ابی وقاص صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مکہ کی کسی گھاٹی میں نماز ادا کر رہے تھے کہ اچانک مشرک ان پر چڑھ دوڑے اور پہلے تو انہیں نماز پڑھتے پا کرنا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے برا بھلا کہنے لگے۔پھر ان پر حملہ آور ہوئے۔حضرت سعد وہ شجاع اور بہادر مرد تھے جو اپنے اور اپنے ساتھیوں کے دفاع کیلئے بڑی جرات سے آگے بڑھے اور اونٹ کی ہڈی جو ہاتھ میں آئی وہ مد مقابل شخص کے سر میں دے ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ مجبوراً اپنے دفاع میں ایک مسلمان کے ہاتھوں کسی کا فر کا خون بہا۔ورنہ مسلمان ہمیشہ فساد سے بچتے اور امن کی راہیں تلاش کرتے رہے۔(5)