سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 152 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 152

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 152 لشکر کی کمان کون کرے۔کیونکہ حضرت علی بھی بوجہ بیماری عذر بیان کر چکے تھے۔حضرت عبد الرحمن بن بن عوف کی عمدہ رائے سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔آپ نے اس لشکر کی سپہ سالاری کے لئے حضرت سعد بن ابی وقاص کا نام تجویز کیا بعد کے واقعات نے بھی یہ ثابت کیا کہ حضرت سعد ہی اس لشکر کی قیادت کے اہل تھے۔23 ہجری میں حضرت عمر پر فجر کی نماز میں قاتلانہ حملہ ہوا۔تو انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر آگے مصلے پر کر دیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جلدی سے نماز مکمل کر لی۔مشتمل حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔حضرت عمرؓ نے خلافت کے انتخاب کے لئے جو چھ افراد پرست بنائی تھی اس کے فیصلہ کن رکن عبد الرحمن بن عوف تھے۔(7) وفات کمیٹی اسٹھ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف نے بعمر 75 سال وفات پائی۔حضرت علیؓ نے آپ کے جنازے پر کھڑے ہو کر آپ کو داد تحسین دی۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے اس موقع پر کہا وائے افسوس ! کہ آج ایک پہاڑ جیسی کوہ وقار شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(8) علم وفراست حضرت عبدالرحمن کو آنحضرت ﷺ کے قدیمی صحابی ہونے کے باعث علم وفضل کی سعادت بھی حاصل رہی تھی۔رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی لوگ آپ سے مسائل دریافت کرتے اور آپ مستند جواب دیتے تھے۔بعد میں بھی کئی مشکل مقامات پر آپ کو قومی سطح پر نہایت مفید مشورے دینے کی توفیق بھی حاصل ہوئی۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں جب اہل بیت میں آنحضرت ﷺ کی وراثت کا سوال ہوا تو آپ نے اپنے ذاتی علم کی بنا پر وضاحت کی کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ” آپ کے ترکے میں وراثت نہ چلے گی بلکہ وہ بیت المال کا حق ہوگا۔“ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں جب ایران فتح ہوا تو آتش پرستوں سے معاملہ کرنے کا مسئلہ در پیش