سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 142 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 142

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 142 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ جانتا ہوں کہ نہ تو میرا وہاں سے واپس لوٹنا مجھے موت کے منہ سے بچا سکتا ہے اور نہ ہی میرا وہاں جانا مجھے میری موت کے مقررہ دن سے پہلے لقمہ اجل بنا سکتا تھا۔مدینہ میں فرائض منصبی سے فارغ ہو کر جو نہی مجھے موقع ملا میں جلد پھر شام کا قصد کرونگا۔(29) مسئلہ تقدیر سرغ میں انصار و مہاجرین سے حضرت عمرؓ کے مشورہ کے دوران یہ بحث چھڑی کہ حضرت عمر کو وباء زدہ علاقہ میں داخل نہیں ہونا چاہئے۔صحابہ کا ایک گروہ اسکے خلاف تھا ان میں حضرت ابو عبیدہ بھی تھے جنہیں حضرت عمر نے طاعون زدہ علاقہ چھوڑ کر اپنے ساتھ مدینہ چلنے کی بھی دعوت دی تھی مگر انہوں نے اسلامی فوج کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی) حضرت ابوعبیدہ کی قلندرانہ رائے یہ تھی کہ حضرت عمرا کو دورہ مکمل کئے بغیر واپس نہیں جانا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ کیا ہم موت سے بچنے کے لئے تقدیر سے بھاگیں گے ؟ حضرت عمر نے جو مسئلہ تقدیر پر گہری نظر رکھتے تھے فرمایا کہ ابوعبیدہ مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی ( آپ میرے بارے میں یہ خیال کریں کہ موت سے بچنے کی خاطر یہ اقدام کر رہا ہوں) اور پھر انہیں مسئلہ تقدیر سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ہم اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جارہے ہیں اور ایک نہایت عمدہ مثال سے اسے یوں واضح فرمایا کہ اے ابو عبیدہ اگر آپ کو دو وادیوں میں اونٹ چرنے کا اختیار ہو جن میں ایک سرسبز و شاداب اور دوسری بنجر ہو اور آپ سرسبز وادی میں جانور چرائیں تو کیا یہ اللہ کی تقدیر سے نہیں ہو گا؟ اسکے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف ( جو موقع پر موجود نہیں تھے) نے آکر رسول اللہ کی ایک روایت سنا کر یہ مسئلہ واضح کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ لہ سے سنا ہے کہ اگر تمہیں کسی علاقہ میں وہا کا پتہ چلے تو اس سرزمین میں داخل نہ ہو اور اگر تم پہلے سے اس علاقہ میں موجود ہو تو اس سے بھاگ کرمت نکلو۔اس پر حضرت عمر نے واپسی کے اپنے صائب فیصلہ پر اللہ کی حمد کی اور واپس روانہ ہوئے۔(30) معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ، عبد الرحمان بن عوف سے یہ حدیث سن کر اپنی اس رائے پر مزید پختہ ہو گئے کہ انہیں یہ وباز دہ علاقہ چھوڑنا نہیں چاہئے۔چنانچہ مدینہ واپس پہنچ کر حضرت عمرؓ نے جب آپ کو ایک خط کے ذریعہ کسی کام کے عذر سے مدینہ بلوا بھیجا۔آپ نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید