سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 134 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 134

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 134 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کمک طلب کی جس پر نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ کی سرکردگی میں مہاجرین کا ایک دستہ ان کی مدد کے لئے بھجوایا ، جس میں حضرت ابوبکر و عمر بطور سپاہی شریک تھے۔رسول خدا نے خداداد بصیرت وفراست سے بوقت رخصت حضرت ابو عبیدہ کو نصیحت فرمائی کہ عمر و بن العاص کے پاس پہنچ کر دونوں امراء باہم تعاون سے کام کرنا۔مگر جب وہاں پہنچے تو حضرت عمرو بن العاص نے اس خیال سے کہ ان کی امداد کے لئے بھجوائی گئی کمک ان کے تابع ہے حضرت ابو عبیدہ کے سپاہیوں کو ہدایت دے کر کام لینے لگے اور بزرگ مہاجرین صحابہ کی اس وضاحت کے باوجود کہ دونوں امراء اپنے دائرہ عمل میں بااختیار ہیں اور انہیں باہم مشورے اور تعاون سے کام کرنے کا حکم ہے۔حضرت عمرو بن العاص کو اپنے حق امارت پر اصرار رہا۔اس نازک موقع پر امانتوں کے سفیر حضرت ابو عبیدہ کا موقف کیسا پاکیزہ اور متقیانہ تھا۔حضرت عمرو بن العاص سے آپ نے فرمایا کہ ” ہر چند کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد امیر کے طور پر بھجوایا ہے مگر ساتھ ہی باہم تعاون کا بھی ارشاد فرمایا۔اس لئے آپ میری بات مانیں یا نہ مانیں میری طرف سے ہمیشہ آپ کو تعاون ہی ملے گا اور میں آپ کی ہر بات مانوں گا۔(13) دیکھئے ابو عبیدہ نے امارت کا حق امانت کس شان سے ادا کر دکھایا اور تعاون علی البر اور ایثار کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا۔8 ہجری میں قریش کے بعض تجارتی قافلوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے رسول کریم نے آپ کو ایک اہم راز دارانہ کی مہم سونپی جس میں تین صد صحابہ آپ کی سرکردگی میں ساحل سمندر کی طرف روانہ کئے گئے۔وہ زمانہ بہت تنگی کا تھا اور حسب دستور زادراہ کے لئے ہر سپاہی نے جو کچھ کھجوریں وغیرہ پاس رکھی تھیں وہ ختم ہونے کو آئیں تو فاقہ کشی کے ان ایام میں انصاری سردار قیس بن سعد کی طرف سے جود وسخا کا زبردست مظاہرہ ہوا۔انہوں نے لشکر میں شامل بعض لوگوں سے واپسی مدینہ تک سواری کے اونٹ ادھار لے کر ذبح کروائے ہمراہیوں کو کھانا کھلانا شروع کیا۔چند روز کے بعد حضرت عمرؓ نے سوال اٹھایا کہ سواریوں کے ختم ہو جانے پر آئندہ سفر کیسے جاری رکھا جا سکے گا ؟ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ نے مزید اونٹ ذبح کرنے سے حکماً روک کر ایک مناسب حال فیصلہ فرمایا۔دوسری طرف