سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 133
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 133 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ موجود تھی ، ابو عبیدہ احد میں نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ کمال مردانگی اور فدائیت کا نمونہ دکھایا۔حضرت ابوبکر صدیق بیان فرماتے ہیں کہ احد میں سنگباری کے نتیجہ میں آنحضور کے خود کی دونوں کڑیاں ٹوٹ کر جب آپ کے رخساروں میں دھنس گئیں میں رسول کریم ﷺ کی مدد کے لئے آپ کی طرف لپکا۔دیکھا کہ سامنے کی طرف سے بھی ایک شخص دوڑا چلا آ رہا ہے۔میں نے دل میں دعا کی کہ خدا کرے اس نازک وقت میں یہ شخص میری مدد اور نصرت کا موجب ہو۔آگے جا کر دیکھا تو وہ ابو عبیدہ تھے جو مجھ سے پہلے حضور تک پہنچ چکے تھے۔انہوں نے صورتحال کا جائزہ لے کر کمال فدائیت کے جذبہ سے مجھے خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ حضور کے رخساروں سے یہ لوہے کی شکستہ کڑیاں مجھے نکالنے دیں پھر انہوں نے پہلے ایک کڑی کو دانتوں سے پکڑا اور پوری قوت سے کھینچا تو وہ باہر نکل آئی۔مگر ابو عبیدہ خود پیٹھ کے بل جا گرے اور ساتھ ہی آپ کا اگلا دانت باہر آ گیا۔پھر انہوں نے دوسرے رخسار سے کڑی اسی طرح پوری ہمت سے کھینچی تو اس کے نکلنے کے ساتھ آپ کا دوسرادانت بھی ٹوٹ گیا اور آپ دوبارہ پشت کے بل گرے۔مگر آنحضرت ﷺ کو ایک سخت اذیت سے نجات دینے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا۔کہتے ہیں حضرت ابو عبیدہ کے سامنے کے دورانٹ ٹوٹ جانے سے ان کا چہرہ اور خوبصورت ہو گیا اور لوگ کہا کرتے تھے کہ سامنے کے دوشکستہ دانتوں والا کبھی اتنا خوبصورت نظر نہیں آیا جتنے ابوعبیدہ۔(10) احد کے بعد جملہ غزوات خندق، بنوقریظہ، خیبر، فتح مکہ حنین اور طائف وغیرہ کے معرکوں میں بھی حضرت ابو عبیدہ ایک مجاہد سپاہی کے طور پر خدمات بجالاتے ہوئے پیش پیش رہے۔(11) امیر لشکر کی حیثیت سے بھی حضرت ابو عبیدہ نے اپنی امانتوں کا حق خوب ادا کیا۔6 ہجری میں وہ قبیلہ ثعلبہ و انمار کی سرکوبی پر مامور کئے گئے اور کامیاب و کامران واپس لوٹے۔(12) ذات السلاسل کی قیادت اور تعاون باہمی 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد رسول خدا نے ملک شام کے مشرق میں ذات السلاسل کی مہم پر حضرت عمرو بن العاص کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ فرمایا ، جس میں کبار صحابہ کی نسبت اعراب اور بد دوغیرہ زیادہ تھے۔وہاں جا کر پتہ چلا کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔اس لئے حضرت عمر و بن العاص