سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 123
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 123 حضرت علی رضی اللہ عنہ ہزار درہم ہوتی ہے۔جو خدا کی راہ میں خرچ کی توفیق ملتی ہے۔فراخی کے باوجود آپ کی سادگی میں کوئی فرق نہ آیا۔عام لباس موٹی چادر کا تھا ایک دفعہ وہ پہنی ہوئی تھی کہنے لگے یہ صرف چار درہم میں خریدی ہے۔سفید ہلکی ٹوپی بھی استعمال فرماتے تھے۔انگوٹھی پر اللہ الملک“ کندہ تھا کہ اللہ ہی بادشاہ ہے۔(35) حضرت علی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بہت سعی کرتے تھے۔کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹاتے۔انکسار کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ حضرت فاطمہ سے کچھ تکرار ہوئی تو مسجد نبوی میں جا کر زمین پر لیٹ رہے نبی کریم نے آکر پوچھا اور خود ان کے پیچھے مسجد گئے اور ان کو زمین پر لیٹے پا کر ابوتراب کی کنیت سے یاد فرمایا کہ مٹی کا باپ۔(36) حضرت علی بیت المال میں حضرت ابو بکر کی طرح معاملہ کرتے تھے۔کوئی بھی مال آتا تو فوراً تقسیم کر دیتے اور کچھ بچا کر نہ رکھتے سوائے اسکے کہ اس روز تقسیم میں کوئی دقت ہو۔نہ تو خود بیت المال سے ترجیحا کچھ لیتے اور نہ کسی دوست یا عزیز کو اس میں سے دیتے۔نیک دیندار اور امانت دار لوگوں کو حاکم مقرر فرماتے۔خیانت پر سخت تنبیہ فرماتے۔خدا کے حضور عرض کرتے ”اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے انہیں تیری مخلوق پر ظلم کا حکم نہیں دیا تھا۔“ کوفہ میں معمول تھا کہ دو چادروں کا مختصر لباس پہن کر درہ ہاتھ میں لئے بازار میں گھوم رہے ہیں لوگوں کو اللہ کے تقویٰ اور سچائی کی تلقین کر رہے ہیں۔اچھے سودے میں ماپ تول پورے کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ایک دفعہ بیت المال میں جو کچھ تھا تقسیم کر کے اس میں جھاڑو پھیر دیا۔پھر دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا امید ہے کہ قیامت کے دن یہ میری گواہ ہوگی۔(36) امانت و دیانت اور قناعت آپ کا شیوہ تھا حضرت عائشہ آپ کے بارے میں فرماتی تھیں کہ وہ بہت روزے رکھنے والے اور عبادت گزار تھے۔(37) زبیر بن سعید قریشی کہتے ہیں کہ میں نے کسی ہاشمی کو آپ سے زیادہ عبادت گزار نہیں دیکھا۔(38) خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی آپ کو بلند مقام حاصل تھا۔کبھی کوئی سائل آپ کے گھر سے خالی ہاتھ نہ لوٹا۔ایک طرف تواضع میں کمال حاصل تھا تو دوسری طرف شجاعت میں انتہا تھی۔میدان جنگ میں شجاعت اور دشمن کے ساتھ حسن سلوک