سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 122 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 122

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 122 حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمائے چاہے تو بگاڑ دے۔(33) اولاد حضرت فاطمہ الزہرہ بنت رسول سے حضرت علیؓ کی اولا د دو صاحبزادے حضرت امام حسنؓ ، امام حسین اور دو صاحبزادیاں حضرت زینب کبری اور ام کلثوم کبری تھیں۔اس کے بعد مختلف اوقات میں آٹھ ازواج اور دیگر امہات الولد سے چودہ لڑکے اور انہیں لڑکیاں ہوئیں۔آپ کی نسل پانچ بیٹوں سے چلی جو حسن و حسین کے علاوہ محمد بن الحنفیہ عباس بن کلا یبہ اور عمر بن تغلبیہ ہیں۔ازواج کے نام یہ ہیں۔(1) حضرت خولہ بنت جعفر حنفیہ (2) حضرت لیلیٰ بنت مسعود تمیمیه (3) حضرت ام البنين بنت حرام کلابیہ (4) حضرت اسماء بنت عمیس تعمیه (5) حضرت صہبا ا بنت ربیعہ تغلبیہ (6) رسول اللہ کی نواسی حضرت امامہ بنت ابی العاص قریشیہ (7) حضرت ام سعید بنت عروہ ثقفیہ (8) حضرت محياة بنت امرالقیس کلبیہ (34) اخلاق فاضلہ حضرت علی نے نہایت اعلیٰ اخلاق آنحضرت ﷺ ہی کی تربیت میں تو سیکھے تھے۔حضور پاک کی پاک سیرت ہی آپ کے اخلاق تھے۔سادگی کا یہ عالم تھا کہ خود بیان کرتے تھے میری شادی حضرت فاطمہ سے ہوئی تو ہمارا بستر ایک مینڈھے کی کھال کے سوا کچھ نہ تھا۔اسی پر ہم رات کو سوتے تھے اور دن کو اس پر اپنے جانور کو چارا ڈالتے تھے۔میرے پاس اس کے سوا کوئی خادم نہ تھا۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مدینہ کے شروع کی بات ہے۔مجھے سخت بھوک اور فاقہ کی تکلیف پہنچی، میں باہر نکلا تو ایک عورت نے مٹی جمع رکھی تھی وہ اسے گیلا کر کے گار بنانا چاہتی ہے میں نے اس سے ایک ڈول پانی کے عوض ایک کھجور لینے پر سولہ ڈول پانی نکال کر دئے۔جس سے میرے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے۔پھر پانی سے ہاتھ دھو کر اس سے سولہ کھجور میں لیں اور رسول کریم ﷺ کے پاس لے کر آیا۔آپ نے میرے ساتھ وہ کھجور میں تناول فرمائیں۔فرماتے تھے کہ ایک زمانہ تھا مجھے بھوک اور فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑتا تھا اور آج میرے وقف اموال صدقہ وغیرہ کی آمد ہی چالیس