سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 107 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 107

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 107 حضرت علی رضی اللہ عنہ درخواست کی جسے حضور ﷺ نے بخوشی قبول فرمایا۔حضرت علی نے حق مہر میں اپنی ایک اونٹنی مالیتی 480 درہم اور زرہ مالیتی 20 در ہم کل پانچ صد در ہم پیش کی۔نبی کریم نے ہدایت فرمائی کہ اس رقم کا ایک حصہ خوشبو وغیرہ کے لئے ، دوسراحصہ کپڑوں کے لئے اور تیسرا حصہ دیگر اخراجات میں صرف ہو۔(14) اس با برکت نکاح کا اعلان خود درسول کریم ﷺ نے فرمایا جس میں مہاجرین وانصار کے بزرگ شامل ہوئے۔رسول کریم علیہ نے خطبہ میں اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح فرض قرار دیا ہے اور اس کے ذریعہ رحمی رشتے قائم فرمائے ہیں۔قضاء وقدر کے مضمون کی طرف اہم اشارے فرما کر آپ نے اعلان نکاح فرمایا۔حضرت علیؓ سے رضا مندی لی پھر چھوہاروں کا ایک طشت تقسیم کروایا اور حضرت علی اور فاطمیہ کو نیک نسل کی دعا دی۔اور حضرت فاطمہ سے فرمایا تمہارا شوہر دنیا و آخرت میں سردار ہوگا یہ میرے اولین صحابہ میں سے اور علم وحلم میں دوسروں سے بڑھ کر ہیں۔حضرت اسمائلا بنت عمیس کہتی تھیں کہ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب رسول کریم ان دونوں کیلئے بوقت رخصتی خاص دعا کر رہے تھے۔(15) رسول پاک ﷺ نے دونوں میاں بیوی پر اپنے وضو کا پانی چھڑک کر دعائے خیر دی۔حضرت فاطمہ کو آنحضرت نے نہایت سادگی سے رخصت فرمایا۔گھریلو ضرورت کی چند چیزیں چارپائی بستر چادر آٹے کی چکی پیالہ اور چھانی ،مشکیزہ اور دو گھڑے ساتھ دئے۔یہ تھی بوقت شادی سرکار دو عالم کی صاحبزادی کی کل کائنات۔حضرت علی کی زندگی بھی درویشانہ تھی۔دعوت ولیمہ تک کے لئے پاس کچھ نہ تھا۔چنانچہ جنگل سے گھاس کاٹ کر شہر میں بیچی اور ولیمے کے لئے رقم اکٹھی کرنے کا ارادہ کیا۔مگر جب یہ بھی ممکن نہ ہوا تو خود رسول کریم ہے، حضرت سعد اور بعض اور صحابہ کی اعانت سے پروقار ولیمہ کی تقریب ممکن ہوئی۔جو کھجور منقہ جو کی روٹی پنیر اور شور بے کی دعوت تھی۔اس زمانے کے اقتصادی حالات اور غربت و سادگی کا اندازہ حضرت اسماء کی اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے۔آپ فرماتی تھیں کہ اس زمانے میں اس دعوت ولیمہ سے بہتر کوئی ولیمہ نہیں ہوا۔(16) ایک دن حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے