سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 104 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 104

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 104 حضرت علی رضی اللہ عنہ افراد کو اس دعوت پر بلایا گیا۔دعوت کے بعد آنحضرت عمﷺ نے خاندان بنی مطلب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” خدا کی قسم میں تمہارے سامنے دنیا و آخرت کی بہترین نعمت پیش کر رہا ہوں۔کون ہے جو اس کام میں میرا معاون اور مددگار ہو گا ؟“ اس وقت خاندان میں سے کسی اور کو تو تو فیق نہ ہوئی ،مگر یہ کم سن بچہ کھڑا ہوا، جس کی آنکھوں سے آشوب چشم کی وجہ سے پانی بہ رہا تھا، مگر کمال ہمت وعزم سے اس نے کہا یا رسول اللہ ہر چند کہ میں کمزور اور ناتواں ہوں میں اس راہ میں آپ کی مدد کے لئے حاضر ہوں۔“ رسول اللہ نے آپ کو بیٹھنے کا ارشاد فرمایا اور اپنے رشتہ داروں کے مجمع کے سامنے پھر یہی سوال دہرایا ، دوسری دفعہ پھر حضرت علی کے سوا کوئی اور نہ اُٹھا۔تیسری مرتبہ بھی جب حضرت علی نے ہی نہایت دلیری اور جانبازی کے ساتھ اپنی خدمات اسلام کی تائید کے لئے پیش کر دیں تو رسول اللہ بہت خوش ہوئے۔(5) حضرت علی کی فدائیت اور جانثاری حضرت علیؓ نے زندگی بھر اس تعلق کا حق خوب ادا کیا۔چنانچہ اہل مکہ نے باہم مشورہ کر کے جب رسول اکرم کے گھر پر حملہ آور ہو کر آپ کو قید کرنے یا قتل کا منصوبہ بنایا۔تو وحی الہی سے آپ کو دشمنوں کے اس ارادے کی اطلاع ہو گئی۔ہجرت مدینہ کا حکم ہوا تو حضور ﷺ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر حضرت علی کو اپنے بستر پر استراحت کا حکم دیا۔حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی سرخ چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔(6) تاکہ دشمنوں کو آپ کے مکہ چھوڑنے کا علم نہ ہو۔ساری رات مشرکین نے حضرت علی کو نبی کریم ﷺ سمجھ کر حراست میں لئے رکھا۔صبح وہ آپ کو گرفتار کرنے کے لئے لیکے تو آپ کی جگہ حضرت علی کو دیکھ کر سخت مایوس ہوئے۔(7) اس دوران حضرت علی پر اسی طرح سنگ باری کی جاتی رہی جس طرح رسول اللہ ہے پر سنگباری کی جاتی تھی۔(8) علی الصبح جب مشرکین نے رسول اللہ اللہ کی جگہ حضرت علی کو پایا تو پہلے ڈانٹ ڈپٹ کر آپ سے رسول اللہ ﷺ کا اتہ پتہ پوچھتے رہے۔انہیں زدوکوب بھی کیا۔پکڑ کر خانہ کعبہ میں لے گئے اور کچھ دیر محبوس رکھا۔جب حضرت علی نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ پرنگران نہیں تھا۔تم نے انہیں مکہ