سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 90 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 90

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 90 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس پر کوئی مصیبت آئے تو اس کی محبت میرے دل میں پیدا ہو چکی ہو۔(36) عبادت میں شغف حضرت عثمان کو عبادت وریاضت میں بہت شغف تھا۔شہادت کے موقع پر آپ کی حرم حضرت نائلہ نے ظالم قاتلوں سے فرمایا تم نے ایک ایسے شخص کو شہید کیا جو بہت روزے رکھنے والا بہت عبادت گزار تھا۔وہ نماز کی رکعت میں ساری رات کو تلاوت قرآن سے زندہ رکتھے تھے۔(37) رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع کا بہت خیال تھا۔بارہا ایسا ہوا کہ تمام صحابہ کے سامنے مکمل وضو کر کے دکھایا اور فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اس طرح وضو فر مایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک جنازہ گزرا آپ احتراماً کھڑے ہو گئے اور پھر فرمایا کہ رسول اللہ علیہ بھی ایسا کیا کرتے تھے۔حضرت عثمان قرآن شریف کے عاشق تھے۔کاتب وحی کی خدمت انجام دینے کی توفیق ملی۔خود حافظ قرآن تھے۔آیات قرآنی سے استنباط واستدلال میں خاص ملکہ رکھتے تھے۔علم الفرائض یعنی میراث میں بھی آپ کو گہری دسترس حاصل تھی۔حضرت عثمان طبعاً کم گو تھے۔مگر جب بات کرتے تو مکمل بات کرتے۔(38) احادیث بیان کرنے میں آپ بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔اس لئے آپ کی بہت کم روایات احادیث کی کتب میں ملتی ہیں۔اخلاق فاضلہ حضرت عثمان بہت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” عثمان میرے صحابہ میں سے سب سے زیادہ میرے اخلاق کے مشابہ ہیں۔“ (39) اور تمام اخلاق کی جڑ دیا ہے۔اور حضرت عثمان فطرتاً با حیاء عفیف و راستبار اور پارسا انسان تھے۔رسول کریم یہ بھی آپ کے باحیا ہونے کا خاص لحاظ رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضور صحابہ کے ساتھ بے تکلفی سے ایک کنوئیں کی منڈیر پر تشریف فرما تھے اور پانی کے اندر اپنی ٹانگیں اٹکا رکھی تھیں۔زانوئے مبارک سے کچھ حصہ کھلا ہوا تھا کہ حضرت عثمان کے آنے کی اطلاع ہوئی آپ اپنا کپڑ ا سنبھال کر بیٹھ گئے۔(40) اور فرمایا عثمان