سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 89
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 89 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بعد آسائش آئے گی اور جس نے زمانے کے مصائب برداشت نہیں کئے اسے ان کے مداوا کا بھی علم نہیں ہوتا اور اللہ نے جو وعدے کئے ہیں انقلاب زمانہ سے ہی ان کی تکمیل ہوتی ہے۔حضرت عثمان مخالفین کے تین روزہ محاصرہ کے بعد 18 ذوالحجہ 35ھ میں بعمر 83 شہید ہوئے۔آپ کا زمانہ خلافت گیارہ سال گیارہ ماہ بائیس دن بنتا ہے۔(33) حلیه ولباس جس طرح آپ ظاہر آ خوبرو تھے ایسے ہی آپ کا باطن بھی خوبصورت تھا۔آپ درمیانے قد اور گندمی رنگ کے خوبرو انسان تھے۔ناک بلند ، دانت پیوستہ اور چمکدار تھے۔جسم گداز داڑھی لمبی تھی جسے خضاب لگاتے تھے۔دانت سونے کی تار سے بندھے تھے۔عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔ایک دفعہ قیمتی ریشمی چادر اوڑھی۔فرمایا " یہ میری بیوی نائلہ کی ہے۔ان کی خوشی کی خاطر کبھی میں بھی اوڑھ لیتا ہوں۔‘ (34) موسیٰ بن طلحہ کا بیان ہے کہ ایک جمعہ کے روز میں نے حضرت عثمان کو دیکھا زرد تہ بند کے ساتھ آپ نے چادر زیب تن فرمائی تھی۔عصا ہاتھ میں تھا اور آپ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔(35) اولاد رسول اللہ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ اور ام کلثوم کے علاوہ آپ کے عقد میں چھ ازواج آئیں۔حضرت رقیہ سے بیٹا عبداللہ کم سنی میں فوت ہو گیا تھا۔دوسری بیوی حضرت فاختہ سے ہونے والے عبداللہ بھی بچپن میں فوت ہوئے۔تیسری بیوی حضرت ام عمر و بنت جندب سے عمرو، خالد، ابان، عمر اور مریم پیدا ہوئے۔حضرت فاطمہ بنت ولید سے ولید اور سعید ہوئے۔حضرت ام البنین سے عبدالمالک پیدا ہوئے۔حضرت رملہ بنت شیبہ سے عائشہ، ام ابان اور ام عمر و ہوئیں اور حضرت نائلہ (جو بوقت شہادت موجود تھیں) سے مریم ہوئیں۔الغرض کثیر اولاد تھی۔جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو آپ اسے بلوا کر پیار کرتے ساتھ لگا کر سونگھتے۔وجہ پوچھی گئی تو فرمایا چاہتا ہوں کہ