سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 81
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 81 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ طے ہو جائیں۔چنانچہ آپ فکر مندی سے اس پہلے مہاجر جوڑے کے بارے میں خبریں معلوم کرتے رہے۔حضرت اسماء نے یہ خبر دی کہ حضرت عثمان ایک خچر پر پالان ڈال کر سمندر کی طرف گئے ہیں۔(7) الغرض رسول اللہ ﷺ بڑی توجہ سے اپنے ان پیاروں کے احوال معلوم کرنے کی کوشش میں رہے۔چنانچہ قریش کی ایک عورت نے آکر کہا اے محمد ! میں نے آپ کے داماد کو دیکھا ہے ان کے ساتھ اس کی بیوی تھی۔آپ نے فرمایا " تم نے ان کو کس حال میں نے دیکھا ؟ اس نے کہا میں نے دیکھا کہ عثمان نے اپنی بیوی کو گدھے پر سوار کر رکھا ہے اور خود اسے ہانکتے جارہے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرط محبت میں اس جوڑے کو دعا دی۔اللہ ان دونوں کے ساتھ ہو۔(8) رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت لوط کے بعد حضرت عثمان وہ پہلا مہاجر ہے جس نے اپنی بیوی کے ساتھ خدا کی راہ میں ہجرت کی ہے۔(9) مواخات اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ہجرت مدینہ کے سامان پیدا فرما دئیے۔تو حضرت عثمان نے مع اہل و عیال مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔وہاں حضرت حسان بن ثابت کے بھائی حضرت اوس بن ثابت کے گھر ٹھہرے۔رسول کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لاکر مؤاخات کا سلسلہ جاری فرمایا تو حضرت اوس بن ثابت کے ساتھ حضرت عثمان کی مواخات قائم فرمائی۔(10) ہجرت مدینہ کے معابعد مسلمانوں کو جس بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اوہ پینے کے پانی کی دقت تھی۔مدینے میں ایک ہی کنواں بئر رومہ" تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا اور وہ اس کا پانی فروخت کیا کرتا تھا۔حضرت عثمان نے یہ کنواں خرید کر راہ خدا میں وقف کر دیا۔اور مسلمانان مدینہ کی یہ مشکل ہمیشہ کے لئے آسان کر دی۔(11) بیوی کی تیمارداری ہجرت مدینہ کے بعد کفار مکہ جب مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو اسلام کے پہلے معرکہ غزوہ بدر کے