سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 70 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 70

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 70 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک دفعہ رات کو گشت میں تھے کہ ایک بدو کے خیمے کے پاس سے عورت کے رونے کی آواز آئی۔پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ گھر میں ولادت متوقع ہے۔کوئی عورت مدد کیلئے پاس نہیں ہے۔آپ فوراً گھر واپس گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثوم بنت علی کو ساتھ لے آئے۔ام کلثوم نے وہاں جا کر اس عورت کی مدد اور خدمت کی اور کچھ دیر کے بعد آواز دی کہ اے امیر المومنین ! مبارک ہو آپ کے دوست کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔وہ بدو چونکا کہ خدا کی شان امیر المومنین میرے گھر میں اپنی زوجہ مطہرہ کو لے کر آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا گھبراؤ نہیں کل میرے پاس آجانا بچے کے لئے وظیفہ بھی مقرر کر دیا جائے گا۔(73) حضرت عمرؓ اپنی رعایا کے ایک ایک فرد کا کتنا خیال رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے۔اپنے زمانہ خلافت میں انہوں نے ایک رات گشت کے دوران ایک مسلمان سپاہی کی بیوی کو کچھ ایسے اشعار پڑھتے سنا جس میں وہ اپنے خاوند سے جدائی اور اداسی کا رونا رورہی تھی۔حضرت عمر کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میرے خاوند کو محاذ پر گئے کئی مہینے ہو چکے ہیں اور اس کی یاد مجھے ستا رہی ہے۔حضرت عمر نے فرمایا تم فکر نہ کرو میں اسے قاصد بھجوا کر بلواتا ہوں۔دوسری طرف اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ سے جا کر فرمایا کہ ایک مسئلہ مجھے پریشان کر رہا ہے تم اس بارہ میں میری رہنمائی کرو، یہ بتاؤ کہ عورت کتنے عرصہ بعد خاوند کی ضرورت محسوس کرتی ہے؟“ حضرت حفصہ نے حیاء سے سر جھکا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات کے بیان کرنے سے نہیں روکتا اس پر حضرت حفصہ نے انگلی سے تین چار ماہ یا چار چھ ماہ کا اشارہ کیا۔حضرت عمرؓ نے فیصلہ صادر فرمایا کہ آئندہ مجاہدین کو چار سے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک محاذ جنگ پر نہ رکھا جائے۔‘(74) عدل و انصاف حضرت عمر کا عدل و انصاف زبان زد عام تھا۔حضرت زید بن ثابت کو آپ نے قاضی مقرر کیا تھا۔ایک دفعہ خود ان کی عدالت میں ایک فریق کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑا وہاں تشریف لے گئے۔حضرت زید نے امیر المؤمنین کی تعظیم کے لئے کرسی خالی کر دی۔حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اس مقدمے میں یہ پہلی نا انصافی ہے۔مطلب یہ تھا کہ قاضی کا یہ فرض ہے کہ ہر ایک سے عام