سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 60
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 60 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا:۔”اے بھیا! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا۔‘ (40) حجۃ الوداع میں رسول اللہ کی دعائیہ کیفیات اپنانے کی خاطر آپ کے ساتھ ساتھ رہنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔حضرت عبداللہ بن عمر حجۃ الوداع کا یہ خوبصورت منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجر اسود کی طرف منہ کیا۔پھر اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے۔اچانک توجہ فرمائی تو حضرت عمر بن الخطاب کو ( پہلو میں کھڑے) روتے دیکھا اور فرمایا ” اے عمر ! یہ وہ جگہ ہے جہاں ( اللہ کی محبت اور خوف سے ) آنسو بہائے جاتے ہیں۔“ (41) میدان عرفات کی آخری شام رسول کریم گو خاص دعاؤں کی توفیق ملی۔اس موقع کی ایک بڑی در دانگیز دعا احادیث میں مروی ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت عمرا کو بھی حضور کی معیت میں یہ سعادت عطا ہوئی ہوگی۔چنانچہ رسول کریم ﷺہ ایک دن حضرت عمر کو دیکھ کر مسکرائے اور پوچھا ”اے عمر! جانتے ہو میں تمہیں دیکھ کر کیوں مسکرایا ہوں؟ عرض کیا اللہ اور اسکا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے عرفہ کی شام اپنے عبادت گزاروں پر نظر کر کے فرشتوں کے سامنے فخریہ رنگ میں انکا ذکر کیا اور اے عمر ! تمہارا ذکر بطور خاص ہوا۔‘ (42) قبولیت دعا حضرت عمر کا دعا پر بہت ایمان تھا۔عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں۔بعض اوقات حضرت عمرؓ کسی بچے کو پکڑتے اور اسے کہتے میرے لئے دعا کرو کیونکہ تم نے ابھی تک کوئی گناہ نہیں کیا۔(43) ایک دفعہ قحط کے زمانہ میں حضرت عمرؓ نے لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائی اور دعا کے لئے اپنے ہاتھ پھیلا کر اپنے رب کے حضور عرض کرنے لگے۔”اے میرے مولیٰ ہم تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ سے ہی ابر رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ابھی اپنی جگہ ہی کھڑے تھے کہ بارش برسنے لگی! اسی دوران آپ کے پاس کچھ بدو آئے اور عرض کی کہ امیر المؤمنین ہم فلاں وقت فلاں جگہ تھے کہ ہم نے ایک بادل دیکھا جس سے نداء آرہی تھی ابو حفص ابر رحمت تیرے پاس آتا ہے! ابوحفص