سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 58
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 58 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ با قاعدہ انتظام ، بیت المال کا باقاعدہ انتظام، ملکی نظم وضبط ، عدل وانصاف کا اہتمام، قاضیوں کی عدالتوں کا با قاعدہ نظام اور نظام فوج خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت عمرؓ اپنی فوج کے امراء کو تاکید فرماتے تھے کہ علم دین میں کمال پیدا کریں اور اسے رواج دیں کیونکہ باطل کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے والا یا حق کو باطل سمجھ کر اسے ترک کرنے والے کی بہر حال پرسش ہوگی اور جہالت کا عذر کام نہ آئے گا۔(35) حضرت عمر اہل علم اور قدیمی خدام دین کی قدردانی فرماتے۔نوجوان عالم حضرت ابن عباس کو انکے دربار میں خاص مرتبہ تھا۔حضرت بلال کو ان کی خدمات کی وجہ سے سیدنا بلال کہہ کر بلاتے اور خاص مقام دیتے۔غریب مہاجرین کو نو مسلم رؤسا پر بھی اپنے دربار میں ترجیح دیتے۔امور سلطنت مشورہ سے طے کرتے حتی کہ بعض دفعہ اپنی رائے چھوڑ کر صحابہ کے مشورہ پر عمل فرمایا۔الہام سے مناسبت حضرت عمر کو علم وفضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے نور الہام ووحی کے ذریعہ روحانی علوم کے ساتھ بھی گہری مناسبت عطا فرمائی ہوئی تھی۔آنحضور ﷺ نے آپ کی اسی دماغی مناسبت کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا:۔پہلی قوموں میں محدث ہوا کرتے تھے جو نبی تو نہیں ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ کلام کرتا تھا۔اگر میری اُمت میں ایسا کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔“ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کی اس اعلیٰ روحانی استعداد کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور موقع پر فر مایا تھا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘ (36) رض دوسری روایت میں ہے کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر مبعوث کئے جاتے گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں الہام کے ساتھ گہری مناسبت عطا فرمائی اور آپ اس لائق تھے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور الہام آپ پر نازل ہو اور اگر میرے معا بعد بنی اسرائیل کے سلسلۂ خلافت کی طرح نبوت جاری رہنی ہوتی