سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 54 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 54

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 54 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عمر سے پوچھا کیا خبر لائے؟ عرض کیا اے امیر المؤمنین! آپ کی خواہش کے مطابق حضرت عائشہ نے اجازت دے دی۔فرمانے لگے۔الحمد للہ! میری ذات کے لئے اس سے اہم کوئی چیز نہیں تھی۔جب میری وفات ہو جائے تو میرا جنازہ اُٹھا کر وہاں لے جانا اور ایک دفعہ پھر حضرت عائشہ سے اس طرح اجازت طلب کرنا کہ عمر بن خطاب آپ کے حجرہ میں تدفین کی اجازت چاہتے ہیں اگر وہ اجازت دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا اور نہ مسلمانوں کے عام مقبرہ میں تدفین کرنا۔“ (25) چنانچہ اپنے آقا ومولا اور ساتھیوں کے پاس حجرہ عائشہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر کا جنازہ رکھا گیا تو لوگ حضرت عمرؓ کے حق میں دعائیں کر رہے تھے کہ ناگاہ ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حضرت عمر کومخاطب کر کے کہا اللہ آپ پر رحم کرے۔مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ اکٹھا کر دے گا کیونکہ میں اکثر رسول اللہ گوفر ماتے سنتا تھا میں تھا اور ابو بکر و عمر تھے میں نے اور ابوبکر و عمر نے فلاں کام کیا۔میں اور ابوبکر و عمر فلاں جگہ گئے۔“ اس بناء پر مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے ساتھ ہی جگہ دے گا۔ابن عباس کہتے ہیں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ حضرت علی بن ابی طالب تھے۔(26) حضرت عمرؓ کی وفات پر مسلمانوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کے حکم کے مطابق فرض نماز میں انہیں حضرت صہیب پڑھا رہے تھے۔چنانچہ حضرت صہیب کو آگے کر دیا گیا اور انہوں نے حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت عمر 23 ذوالحجہ 23ھ کو قریباً ساٹھ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔آپ کا زمانہ خلافت ساڑھے دس برس تھا۔(27) استحکام خلافت اور شوری حضرت عمر نے اپنے خداداد نور بصیرت سے استحکام خلافت کے سلسلہ میں عظیم الشان کردارادا کیا اور انتخاب خلافت کا پختہ اصول رائج فرما دیا۔آپ کی خدمت میں اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کی درخواست کی گئی تو آپ نے اس سے پس و پیش کیا پھر ایک روز اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ ” میری وفات کے بعد خلافت کا فیصلہ چھ افراد کی یہ کمیٹی کرے گی جن میں علی بن ابی طالب ، عثمان بن عفان،