سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 53
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 53 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور بھی آپ نے وفا سے نبھایا اور وہ آپ سے راضی ہو کر رخصت ہوئے۔پھر حضور علیہ کے صحابہ سے واسطہ پڑا اور آپ نے ان کا بھی خوب حق ادا کیا اور آپ کی جدائی کے وقت وہ سب آپ سے راضی ہیں۔حضرت عمرؓ نے کمال انکساری سے فرمایا:۔صلى الله ”رسول اللہ علیہ اور حضرت ابوبکر کا مجھ سے راضی ہونا تو واقعی اللہ کا احسان ہے۔البتہ میری یہ گھبراہٹ آپ اور آپ کے اصحاب کی وجہ سے ہے کہ نامعلوم ان کے حق ادا کر سکا ہوں یا نہیں؟ خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین کے برابر سونا ہوتا تو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے پیش کر دیتا۔پہلے اس سے کہ اس عذاب کو دیکھوں۔‘(23) علی بن زید بیان کرتے ہیں جب حضرت عمر کو منجر مارا گیا تو حضرت علی عیادت کو آئے اور آپ کے سرہانے بیٹھ گئے۔اسی اثنا میں حضرت عبد اللہ بن عباس بھی آگئے اور آپ کی تعریف کرنے لگے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ابن عباس تم جو کہ رہے ہو کیا اس کی گواہی دو گے؟ حضرت علیؓ نے اشارہ سے حضرت ابن عباس سے ہاں کہنے کو کہا۔حضرت ابن عباس نے کہا جی حضور! تو حضرت عمرؓ نے فرمایا۔تم اور تمہارے ساتھی مجھے کسی دھو کہ میں مبتلا نہیں کر سکتے۔پھر آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا ” میرا سر تکیہ سے اٹھا کر مٹی پر رکھ دو شاید کہ خدا مجھ پر نظر کرم کرے اور رحم فرما دے۔‘ (24) معیت رسول عہ کی خواہش بوقت بوفات حضرت ابن عمر سے فرمایا کہ ام المؤمنین عائشہ سے جا کر میر اسلام عرض کرو اور ”امیر المؤمنین“ کے الفاظ میرے لئے استعمال نہ کرنا کیوں کہ آج کے بعد میں مسلمانوں کا امیر نہیں رہوں گا۔ان سے کہنا عمر بن الخطاب اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ حجرہ عائشہ میں زمین کی اجازت چاہتے ہیں۔حضرت ابن عمر گئے تو وہ بیٹھی اور ہی تھیں۔انہوں نے پیغام پہنچایا تو حضرت عائشہ نے فرمایا ” میں نے یہ جگہ اپنی قبر کے لئے رکھی ہوئی تھی مگر آج حضرت عمر کی خاطر انہیں اپنے او پر ترجیح دیتے ہوئے قربانی کرتی ہوں۔“ حضرت ابن عمر جب واپس آئے اور حضرت عمر کو اطلاع ہوئی تو فرمایا مجھے اٹھا کر بٹھاؤ پھر ابن