سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 52
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 52 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پہاڑ پر آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر عمر اور عثمان تھے آپ نے فرمایا تھا اے احد تھم جا کہ تیرے اوپر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔(19) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے جنت میں حضرت عمر کا شاندار محل دیکھ کر رشک کا ذکر فر مایا اور ان کے نیک انجام کی خبر دی تھی۔حضرت عمر دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا کرنا اور مجھے اپنے رسول کے شہر میں موت دینا۔(20) خود حضرت عمر نے اپنی شہادت سے کچھ روز پہلے کہا "اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھی ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ میرا وقت قریب آگیا ہے۔میں نے ایک سرخ مرغ دیکھا جس نے مجھے دو دفعہ چونچیں ماریں۔میں نے یہ خواب اسماء بنت عمیس سے بیان کی تو انہوں نے یہ تعبیر کی کہ مجھے کوئی عجمی شخص قتل کرے گا۔‘ (21) حضرت عمر پر نماز فجر پڑھاتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا۔ظالم قاتل دودھاری چھرا لے کر حملہ آور ہوا اور حضرت عمرؓ کے کندھے اور پہلو میں حملہ کیا۔پھر دائیں بائیں لوگوں پر بھی چھرے سے وار کرتا گیا۔جس سے تیرہ نمازی زخمی ہوئے۔ان میں سے سات شہید ہو گئے۔بالآخر قاتل پر کمبل پھینک کر اسے پکڑ لیا گیا۔حملہ آور نے خود کشی کر لی۔حملہ کے بعد حضرت عمرؓ نے خود عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر انہیں امام کی جگہ کھڑا کر دیا تھا جنہوں نے سورۃ کافرون اور اخلاص کے ساتھ مختصر نماز پڑھائی۔حضرت عمر کو اُٹھا کر گھر لے جایا گیا۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے فرمایا پتہ کریں حملہ کرنے والا کون تھا ؟ وہ معلوم کر کے آئے اور بتایا کہ وہ مغیرہ کا غلام ابولو لو مجوسی تھا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا، وہ جو کاریگر تھا۔انہوں نے کہا ہاں اس پر خوش ہو کر فرمایا ” میں نے تو اس سے حسن سلوک کا ہی حکم دیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ میری موت کسی مسلمان کہلانے والے کے ہاتھ سے نہیں ہو رہی۔“ آپ کو دودھ پلایا گیا تو وہ زخم سے بہ نکلا۔مسلمانوں نے اندازہ کر لیا کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں گے۔(22) خوف خدا آخری وقت میں حضرت ابن عباس نے گھبراہٹ دیکھ کر تسلی دلاتے ہوئے عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا حق ادا کر دیا۔حضور آپ سے بوقت وفات راضی تھے۔حضرت ابوبکر