سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 45
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 45 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی بہن کو جسے زدوکوب کر کے خون آلود کر چکے تھے، رات کے پہلے حصہ میں بھی یہ پڑھتے بنا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق : 2 ) اور رات کے آخری حصہ میں بھی۔علی الصبح آپ تلوار ہاتھ میں لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دارارقم میں حاضر ہو گئے۔جب دروازہ پر دستک ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عمر کو آنے دو۔حضرت حمزہ کہنے لگے ”اگر وہ غلط ارادے سے آئے ہیں تو انہی کی تلوار سے ان کا کام تمام کر دیا جائے گا۔“ حضرت عمر اندر آئے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”عمر !کس ارادہ سے آئے ہو؟ عرض کیا حضور ! اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔پھر انہوں نے اسی وقت أَشْهَدُ اَن لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید اور آپ کی رسالت کی گواہی دی تو آنحضرت ﷺ نے خوشی سے بآواز بلند نعرہ تکبیر بلند کیا۔(5) یہ پہلا نعرہ تکبیر تھا جو مسلمانوں نے مکہ میں حضرت عمر کے ہم آواز ہوکر بلند کیا، جس کی آواز بطحا کی پہاڑیوں میں گونجی۔حضرت عمر کا زمانہ اسلام ساتویں سال نبوت کے قریب بنتا ہے۔ابتلاء میں استقامت اس وقت تک چالیس کے قریب لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔اس زمانہ میں اسلام کا اعلانیہ اظہار ظلم اور مصائب کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔حضرت عمر نے دانستہ طور پر مکہ کے سب سے زیادہ خبریں پھیلانے والے جمیل تجھی کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تا کہ ان کے اسلام کا چرچا ہو اور رؤسائے مکہ کو بھی پتہ چلے۔حضرت عمر کے قبول اسلام کی خبر کا اڑ نا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مشرکین بکثرت ان کے گھر کے گرد جمع ہوئے۔وہ نعرے لگارہے تھے کہ عمر بے دین ہو گیا۔عمر صابی ہو گیا۔حضرت عمرؓ کہتے تھے نہیں میں مسلمان ہوا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔اس دوران کئی دفعہ مشرکین سردار آپ پر حملہ آور ہوئے۔ایک دفعہ عتبہ آپ سے گھتم گتھا ہو گیا۔کفار کے پورے مجمع کے مقابل پر حضرت عمر نے بسا اوقات پورا پورا دن ڈٹ کر مقابلہ کیا۔جو حملہ آور ان کے قریب آتا اسے پکڑ لیتے۔حضرت عمر نے اس موقع پر اعلانیہ کہا کہ اگر ہم مسلمان تین سو افراد ہو گئے تو اے مشرکو! یا تمہیں مکہ کو چھوڑ نا ہوگا یا ہم