سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 44 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 44

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 44 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ! ابوجہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے اسے اسلام کی آغوش میں لے آ۔(3) دراصل یہی دونوں سردار مکہ کی اسلام مخالف قیادت کے بڑے لیڈر تھے۔آنحضور ﷺ کی دعائیں رنگ لائیں اور عمر میں رفتہ رفتہ تبدیلی آنے لگی۔حضرت عمر کا اپنا بیان ہے کہ قبول اسلام سے پہلے ایک دفعہ میں رسول اللہ عنہ کی تلاش میں نکلا تو آپ بیت اللہ میں سورۃ الحاقہ کی تلاوت کر رہے تھے میں اس کلام کی حسن و خوبی پر متعجب ہوا اور دل میں کہا کہ یہ شخص شاعر نہیں ہو سکتا اسی وقت سے اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔‘ (4) در اصل رسول اللہ علیہ کی دعا سے تقدیر الہی حرکت میں آچکی تھی۔حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا فوری سبب وہ واقعہ ہوا جب وہ تلوار سونتے ہوئے آنحضور عے سے قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے۔راستے میں نعیم بن عبداللہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ کہاں کا قصد ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا میں اس فتنہ کا سد باب کرنے اور بانی اسلام کے قتل کے ارادے سے نکلا ہوں۔اس نے کہا پہلے اپنے بہن اور بہنوئی کی تو خبر لو، جو مسلمان ہو چکے ہیں۔وہ اسی حالت میں سیدھا اپنی بہن فاطمہ کے گھر چلے گئے۔قریب پہنچے تو قرآن شریف کی آواز سنائی دی۔گھر میں داخل ہو کر کہنے لگے ” جو کلام تم پڑھ رہے تھے پہلے وہ سناؤ جب انہوں نے کچھ پس و پیش کی تو وہ حالت جوش میں بہنوئی سے دست وگریبان ہو گئے۔بہن چھڑانے کے لئے بیچ میں آئیں تو ان کا بھی لحاظ نہ رہا اور اس طرح اپنی بہن اور بہنوئی کو لہو لہان کر بیٹھے۔اور انہیں کہا ” اس دین سے واپس لوٹ آؤ۔“ حضرت فاطمہ بھی آخر حضرت عمر کی بہن تھیں۔نہایت استقامت سے بولیں ”یہ نہیں ہوسکتا۔اے عمر ! تم جو چاہو کر گزرو جتنا مرضی ظلم ڈھالو اب تو اسلام میرے دل میں گھر کر چکا ہے۔حضرت عمرؓ ایک طرف اپنی بہن کی حالت زار دیکھ کر پشیمان تھے تو دوسری طرف انکا آہنی عزم اور استقلال دیکھ کر حیران ! آخر عمر گا دل پسیج گیا۔کہنے لگے "اچھا مجھے کچھ قرآن تو سناؤ۔‘ اس پر سورۃ طہ یا سورۃ حدید کی کچھ آیات آپ کو سنائی گئیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید ، عظمت و جبروت اور تسبیح وتحمید پر مشتمل تھیں۔ان آیات نے حضرت عمرؓ کے دل پر بجلی کا سا اثر کیا۔