سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 521
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 521 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب ہمیں محصور ہو جانے کا خطرہ ہو تو ہم اپنے گر دخندق کھود کر دفاع کرتے ہیں۔(4) پیش آمده حالات میں مسلمانوں کو یہ رائے بہت پسند آئی۔رسول کریم ﷺ نے خندق کی کھدائی کیلئے خود نشان لگائے۔ہر دس افراد کے لئے چالیس ہاتھ جگہ کھدائی کیلئے مقررفرمائی۔حضرت سلمان کافی مضبوط اور صحت مند تھے۔مہاجرین نے کہا کہ سلمان ہمارے ساتھ خندق کی کھدائی میں شامل ہوں۔انصار نے کہا ہم سے زیادہ ان پر کسی کا حق نہیں اور یہ ہم میں سے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ البَيْتِ - کہ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں۔(5) ایک عرب شاعر نے حضرت سلمان کی یہ فضیلت یوں بیان کی ہے۔لَقَد رَقَى سَلِمَانُ بَعدَرَقِّهِ مَنزِلَةٌ شَامِخَةَ البُنيَانِ وَكَيفَ لَا وَ المُصَطَفَى قَد عَدَّةَ مَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ العَظِيمِ الشَّانِ یعنی حضرت سلمان اپنی غلامی سے آزاد ہو کر ایک نہایت بلند مقام اور مرتبہ پر فائز ہوئے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ نے انہیں اپنے عظیم الشان اہل بیت میں شمار فرمایا۔(6) خندق کی کھدائی کے دوران نشان کا ظہور حضرت سلمان اور بعض اور صحابہ نے خندق کی کھدائی کے دوران ایک ایمان افروز نشان کے ظہور کا بھی ذکر کیا ہے۔حضرت سلمان کہتے ہیں کہ میں نے خندق کے ایک حصہ میں کدال سے ضرب لگائی تو سخت چٹان سامنے آئی۔رسول اللہ ﷺ میرے قریب ہی تھے۔آپ نے کدال میرے ہاتھ سے لے لی اور اپنی چادر ایک طرف رکھ کر چٹان پر ضرب لگائی اور ایک شعلہ نکلا۔آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - (الانعام 116) کہ تیرے رب کی بات سچائی اور عدل کے ساتھ پوری ہوئی۔اس کی باتوں کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں اور وہ بہت سنے والا اور جاننے والا ہے۔اس ضرب سے پتھر کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔حضرت سلمان گھڑے دیکھ رہے تھے۔پھر آپ نے دوسری ضرب لگائی اور پھر وہی آیت پڑھی۔دوبارہ ایک شعلہ پتھر سے نکلا اور پتھر کا ایک تہائی مزید شکستہ ہو گیا۔پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور وہی آیت پڑھی۔ایک شعلہ بلند ہوا اور