سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 491
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تعارف 491 حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ حضرت براء بن عازب انصاری حضرت براء بن عازب انصار مدینہ کے قبیلہ اوس کی شاخ بنوسلمہ میں سے تھے۔کنیت ابوعمارہ تھی بعض نے ابو عمر و بھی کنیت بتائی۔براء کے والد عازب کو بھی صحابیت کا شرف حاصل تھا۔حضرت برانا ہجرت مدینہ کے وقت کم سن بچے تھے۔یہی وجہ ہے کہ غزوہ احد میں بوجہ کم سنی شرکت نہ کر سکے۔خود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو اور مجھے کم سنی کے باعث بدر میں شرکت کی اجازت نہ لی تھی اور ہمیں واپس کر دیا گیا۔پھر احد یا خندق میں اجازت مل گئی تو اس میں شریک ہوئے۔(1) غزوات میں شرکت حضرت براء کا بیان ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ چودہ یا پندرہ غزوات میں شرکت کی توفیق ملی۔حضرت براہ نے غزوات کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کے سفروں میں بھی فیض صحبت سے حصہ پایا۔وہ بجا طور فخر سے اپنی اس سعادت کا ذکر کرتے تھے کہ مجھے رسول کریم ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔(2) حضرت براتو نے صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں بھی شرکت کی سعادت پائی۔وہ سفر حدیبیہ کا یہ تاریخی واقعہ بھی بیان کیا کرتے تھے کہ میدان حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کا پڑاؤ تھا۔مسلمانوں کے پاس پانی ختم ہو گیا۔نبی کریم ﷺ نے ایک تیر دیکر انہیں حدیبیہ کے خشک کنوئیں کی طرف بھجوایا کہ اس میں ڈال دیں۔پھر رسول اللہ ﷺ کی دعا کی برکت سے اس تیر کو کنوئیں میں ڈالنے سے پانی جوش مار کر نکلنے لگا۔بعض دوسری روایات میں تیر لے کر کنوئیں میں اترنے والے کا نام ابن جندب بھی بیان ہوا ہے۔حضرت براء بن عازب کو حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مختلف مہمات میں کامیاب شرکت کی توفیق ملی۔24 ھ میں فتح رے کی سعادت عطا ہوئی۔(3)