سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 492 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 492

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 492 حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایرانیوں کے ساتھ جنگ تستر میں حضرت برا کو شریک ہونے کا موقع ملا۔حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ جمل صفین اور نہروان میں شریک ہو کر خوارج کے خلاف قتال کیا۔(4) خشیت اور انکسار حضرت براء آنحضرت اللہ کے فیض صحبت سے تربیت یافتہ تھے۔بعد کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت مسیب ان سے ملے اور کہا مبارک ہو۔آپ نے رسول کریم علیہ کی صحبت ورفاقت پائی پھر حدیبیہ کے تاریخی موقع پر بیعت رضوان کی توفیق ملی۔حضرت براٹر نے سن کر جواب دیا اے میرے بھتیجے تمہیں کیا پتہ اس کے بعد ہم نے کتنی نئی باتیں پیدا کر لی ہیں۔(5) حضرت براگا اپنے والد حضرت ابو بکر و عمر اور دیگر بزرگ صحابہ کے واسطے سے احادیث روایت کرتے تھے اور کسی اظہار فخر کی بجائے نہایت عاجزی سے کہا کرتے کہ ” جتنی احادیث ہم تمہارے پاس بیان کرتے ہیں یہ سب ہم نے خود رسول اللہ علیہ سے نہیں سنیں ہم تو اونٹوں وغیرہ کے چرانے میں مصروف رہتے تھے۔یہ احادیث ہم نے بزرگ صحابہ سے سنیں اور بیان کرتے ہیں۔(6) صلى الله غیرت و عشق رسول عام حضرت براء بن عازب رسول اللہ ﷺ کے عاشق صادق تھے اور آپ کیلئے کچی غیرت رکھتے تھے رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ اس روز مدینہ کے لوگ اتنے خوش تھے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے خوش نہ ہوئے تھے۔بچے بھی کہتے پھرتے تھے رسول اللہ آ گئے۔رسول اللہ ﷺ آگئے۔(7) نبی کریم ﷺ کا حلیہ کمال محبت میں ڈوب کر بیان کرتے اور کہتے رسول اللہ ﷺ کا درمیانہ قد تھا۔سینہ چوڑا ، سیاہ بال کانوں کی لو تک تھے۔ایک دفعہ آپ نے سرخ پوشاک زیب تن فرمائی تو اتنے حسین لگے کہ کبھی میں نے رسول اللہ سے خوبصورت کو ئی شخص نہیں دیکھا‘(8) ذوق بہت لطیف تھا ایک دفعہ کسی نے حضرت براء سے پوچھا کہ ” کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ تلوار کی دھار کی طرح چمک دار تھا۔کہنے لگے نہیں بلکہ چاند کی طرح روشن تھا۔(9)