سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 487 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 487

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 487 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہ میری بہنوں کو یہ دو تہائی مال مل جائے۔معلوم ہوتا ہے آنحضرت نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے بعد اطلاع پا کر فرمایا جا بڑ! میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ اس بیماری میں تمہاری موت نہیں ہو گی۔لیکن یوں تم اپنی بہنوں کے لئے اگر وصیت کرنا چاہتے ہو تو کر سکتے ہو۔اور پھر جابڑ نے وہ وصیت کر دی۔عطائے رسول عالم حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک موقعہ پر حضور نے مجھے مال دینے کا وعدہ فرمایا کہ اے جابر بحرین کی طرف سے بہت مال آئے گا اور پھر میں تمہیں اس طرح دوں گا اور حضور نے اپنے دونوں ہاتھ بھر بھر کر اشارہ کیا کہ اس طرح دوں گا۔اور تین دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایسا کیا۔آپ کی زندگی میں تو بحرین کا مال نہیں آیا حضرت ابو بکر کی خلافت میں بحرین فتح ہوا اور اموال آئے تو حضرت ابو بکر نے منادی کرادی کہ اگر آنحضرت ﷺ کا کسی سے کوئی وعدہ تھا کہ آپ انہیں کچھ عطا فرمائیں گے تو وہ آئے اور آج مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر لے۔حضرت جابر حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کیا کہ آنحضور ﷺ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا تھا۔حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ جتنا مال حضور نے فرمایا تھا اتنا اپنے دونوں ہاتھ بھر بھر کر لے لو۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے پہلے دونوں ہاتھ بھر کر مال اٹھایا پھر دوسری دفعہ پھر تیسری دفعہ ہاتھ بھر کر لے لئے۔بعد میں اسے شمار کیا تو یہ ڈیڑھ ہزار درہم کے قریب مال تھا۔یہ آنحضرت ﷺ کے حضرت جابڑ کے ساتھ احسانات کا وہ سلسلہ ہے جو حضور کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کے ذریعے بھی جاری رہا۔روایات حدیث جابڑ کی ایک اور روایت قراءت کے متعلق ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت مع قرآن سیکھتے تھے۔اس میں اعرابی بھی تھے اور فصیح و بلیغ عربی بولنے والے بھی آنحضور ﷺ ہم سے سے قرآن سنتے تھے اور ہمیشہ ہمیں سہولت اختیار کرنے کی تعلیم دیا کرتے اگر اعرابی اپنے لہجے میں پڑھ رہے ہوتے تو آپ اپنے خاص انداز میں فرماتے کہ ٹھیک ہے یوں پڑھو آپ قرآن پڑھنے