سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 469
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 469 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن رواحہ بیمار ہو گئے۔اس بیماری میں غشی کے دورے آپ کو پڑنے لگے۔نبی کریم ہے بنفس نفیس عیادت کیلئے ان کے گھر تشریف لے گئے۔دیکھا کہ ان پر بے ہوشی طاری ہے۔ان کی بہن عمرہ بھائی کا آخری وقت سمجھ کر بین کرنے لگی کہ اے میرے پہاڑ جیسے بھائی ! اے میرے عظیم بھائی ! آنحضرت ﷺ نے ایک طرف ان کو تسلی دلائی تو دوسری طرف حضرت عبد اللہ بن رواحہ کیلئے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہوئے عرض کیا۔اے میرے مولا اگر عبد اللہ بن رواحہ کی اجل مقدر آگئی ہے اور یہ تقدیر مبرم ہے تو پھر اسکا آخری وقت آسان کر دے اور اسے مزید تکلیف میں نہ ڈال اور اگر اس کا آخری وقت نہیں آیا تو پھر اے میرے مولیٰ میں دعا کرتا ہوں کہ اسے شفا عطا فرمادے۔حضور کی اس دعا کا عجب معجزانہ اثر ہوا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ہوش میں آگئے۔طبیعت سنبھل گئی اور حضور کی خدمت میں عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ جب میری یہ بہن بین کر رہی تھی کہ ”میرے پہاڑوں جیسے عظیم بھائی تو فرشتے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا تم واقعی ایسے تھے۔بعد میں ان کی بہن نے غزوہ موتہ میں ان کی شہادت پر غیر معمولی صبر دکھایا اور کوئی واویلا یا بین نہیں کیا۔(12) قیادت موتہ اور عجز وانکسار غزوہ موتہ جمادی الاولی 9 ہجری میں ہوئی۔واقعہ یوں ہوا کہ نبی کریم نے بصرہ کے رئیس کے نام اپنے ایک صحابی کے ہاتھ اپنا خط بھجوایا تھا۔راستے میں ایک غسانی نے رسول اللہ اللہ کے اس سفیر کو قتل کر دیا۔مزید برآں رومی سرحد پر مسلمانوں کے خلاف فوجوں کا اجتماع ہو رہا تھا نبی کریم نے تین ہزار کا لشکر روانہ کیا اس کی قیادت حضرت زید بن حارثہ کے سپرد کی اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو گئے تو پھر حضرت جعفر بن طیار امیر لشکر ہونگے اور اگر وہ بھی شہید ہو گئے تو عبداللہ بن رواحہ قیادت سنبھالیں گے۔اس لشکر کی روانگی اور الوداع کا وقت آیا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رونے لگے لوگوں نے کہا کہ اے عبداللہ روتے کیوں ہو کہنے لگے کہ خدا کی قسم مجھے دنیا سے ہرگز کوئی محبت ہے نہ اس کا کوئی شوق لیکن میں نے اس آیت وَإِن مِنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا (مریم: 72) کے بارہ میں آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ ہر ایک شخص کو ایک دفعہ ضرور آگ کا سامنا کرنا ہے اور میں اس سے بہت ڈرتا ہوں ایسے وقت اللہ تعالیٰ مجھے استقامت عطا فرمائے اور کہیں میں