سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 468
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 468 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ إِنِّي تَفَرَّدْتُ فِيْكَ الْخَيْرَاَ عْرِفُه وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنْ مَّا خَانَنِي الْبَصَرُ یعنی اے محمد مصطفی ﷺ ! میں آپ کے اندر ایسی منفرد خیر و بھلائی پاتا ہوں جسے میں اپنی فراست سے پہچانتا ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میری آنکھ نے کوئی خیانت نہیں کی۔آخر میں دعا دیتے ہوئے حضور کی خدمت میں عرض کیا فَثَبَّتَ اللهُ مَا آتَاكَ مِنْ حَسَنٍ تَثْبِيْتَ مُوْسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا کہ اے محمد مصطفی ؟ اللہ تعالیٰ نے خوبیاں آپ کو عطا فرمائیں ہیں وہی آپ کو وہ ثبات قدم عطا فرمائے جو حضرت موسی کو بخشا گیا اور آپ کی اسی طرح تائید ونصرت بھی کرے۔آنحضرت ﷺ نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے۔چہرہ خوشی اور مسرت سے تمتمانے لگا۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو دعا دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں بھی ثابت قدمی عطا فرمائے“ یہ دعا حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے حق میں بڑی شان سے قبول ہوئی اور آپ کو شہادت کا مرتبہ عطا ہوا اور نہایت عالی شان ثبات قدم سے آپ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے۔(10) علامہ مرزبانی نے منجم الشعراء میں لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ زمانہ جاہلیت کی شاعری میں بھی بہت قدر و منزلت رکھتے تھے اور زمانہ اسلام میں بھی انکو بہت بلند مقام اور مرتبہ حاصل تھا۔بقول مرزبانی حضور کی شان میں ایک شعر حضرت عبداللہ نے ایسا کہا ہے کہ اسے آپ کا بہترین شعر کہا جاسکتا ہے۔وہ شعر آپ کی دلی کیفیت کو خوب بیان کرتا ہے جس میں حضرت عبد اللہ نے آنحضرت علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا و لَوْ لَمَ تَكُنْ فِيهِ آيَات مُبَيَّنَةٌ كَانَتْ بَدِيْهَتُهُ، تُنبِيْكَ بِالخَبَرِ که محمد مصطفی میں ہے اگر سچائی اور صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے وہ تمام کھلے کھلے اور روشن نشانات نہ بھی ہوتے جو آپ کے ساتھ تھے تو بھی محض آپ کا چہرہ ہی آپ کی صداقت کیلئے کافی تھا۔جو خود آپ کی سچائی کا اعلان کر رہا تھا۔(11) آقا کی عیادت اور دعا آنحضرت ﷺ کو بھی اپنے اس عاشق صادق اور غلام سے بہت محبت تھی۔ایک دفعہ حضرت