سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 467
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فی البدیہہ اشعار میں مدح رسول علی 467 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن رواحہ اپنا ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ بیان کرتے تھے کہ ایک دن میں مسجد نبوی کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور کی مجلس ایک کونے میں جمی ہے کچھ لوگ تیزی سے میری طرف آئے اور مجھے بلانے لگے اے عبداللہ بن رواحہ! اے عبد اللہ بن رواحہ! میں سمجھ گیا کہ حضور نے مجھے یاد فرمایا ہے۔حاضر خدمت ہوا تو آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور فرمانے لگے کہ اے عبد اللہ یہ تو بتاؤ کہ جب تمھارا ارادہ شعر کہنے کا ہوتا ہے تو کیسے کہتے ہو؟ حضرت عبداللہ کہتے ہیں حضور نے یہ بات اظہار پسندیدگی اور تعجب کے رنگ میں کہی۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پہلے میں اس مضمون پر غور کرتا ہوں جس کے بارے میں کچھ کہنا ہو پھر شعر کہتا ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا آج ہمارے سامنے مشرکین کے بارے میں کچھ اشعار کہو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے پاس کوئی چیز تیار نہیں تھی۔فی البدیہہ شعر کہنے تھے کچھ دیر غور کے بعد میں نے اشعار کہے۔پہلے شعر میں ہی ان مشرکین کی مذمت تھی جن کا تعلق حضور کے خاندان سے بھی تھا اس لئے یہ بڑا کڑا امتحان بھی تھا۔مجھے محسوس ہوا جیسے حضور کو وہ شعر نا گوار گزرا ہو۔شعر یہ تھا۔خَبْرُونِي أَثْمَانَ الْعَباءِ مَتَى كُنتُمْ بِطَارِيقَ إِذَا دَ أَنتَ لَكُمْ مُضَرٍّ یعنی ”اے مشرکین مکہ امجھے بتاؤ تو سہی تمھاری حیثیت اور قیمت ہی کیا ہے؟ محض ان جبوں کی قیمت کے برا بر جو تم نے پہن رکھے ہیں اور بس مجھے یہ تو بتاؤ کہ تم کب سے خانہ کعبہ کے متولی بن گئے ؟ تم خود تو بے دین تھے اور مضر نے تم کو اپنے دین پر قائم کیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے قریش کو محض قباؤں کی قیمت سے برابری کا طعنہ دیا تو حضور کے چہرے پر کچھ ناگواری سی آئی لیکن اگلے ہی اشعار میں ابن رواحہ نے رسول اللہ ﷺ کے خاندان بنو ہاشم کی قرار واقعی تعریف کر کے انہیں کفار سے الگ کر لیا وہ شعر یہ تھے يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلاً مَالَهُ غِيَرُ مگر اے بنو ہاشم تم وہ قبیلہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر ایک ایسی فضیلت عطا فرمائی ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا اور پھر حضور کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا