سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 466 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 466

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 466 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے چبھ رہا ہے اور تیروں سے بڑھ کر اس کا اثر ہے۔پھر رسول کریم ﷺ نے انہیں ان اشعار کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کا مضمون پڑھنے کی ہدایت کی اور فرمایا اے عبد اللہ یہ کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ جُنْدَهُ و هَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہ یعنی خدا کے سوا کوئی شریک نہیں وہ ایک ہے اس نے اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور اپنے لشکروں کو عزت عطا کی اور ان کو غلبہ دیا اور تما م لشکروں کو تنہا اس خدا نے ہی پسپا کر دیا۔(8) آنحضرت ﷺ کو حضرت عبد اللہ بن رواحہ پر بہت اعتماد تھا۔چنانچہ مختلف مہمات میں آپ انہیں روانہ فرماتے رہے۔ایک بہت ہی اہم ہم خیبر کی تھی جہاں یہودیوں کے سردارا بورافع کی وفات کے بعد اسیر بن رزام یہودیوں کا رئیس بنا۔اس نے تمام یہودیوں کو جمع کر کے اعلان کیا کہ مسلمانوں کے متعلق آج تک میرے پیش روؤں نے نرمی کی غلط پالیسی اختیار کی تھی۔اب میں راست اقدام کر کے دکھاؤں گا اور ہمیں بہر حال مدینہ پر حملہ کرنا ہو گا۔اس مقصد کیلئے اس نے ایک لشکر بھی تیار کیا آنحضرت ﷺ کو جب ان جارحانہ اقدامات کی اطلاع ملی تو آپ نے مصالحت کے لئے ایک خط اسیر بن رزام کی طرف بھجوایا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کو صلح کے سفیر کے طور پر اسیر بن رزام کے پاس تمہیں افراد کے قافلے کے ساتھ بھیجا۔فتح خیبر کے بعد بھی اس علاقے میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ خدمات بجالاتے رہے چنانچہ اہل خیبر سے مصالحت کے وقت نصف پیداوار کا جو معاہدہ ہوا تھا کہ وہ اسے مسلمانوں کے حوالے کریں گے۔آنحضرت ﷺے ہر سال اس پیداوار کا تخمینہ لگانے کیلئے حضرت عبداللہ بن رواحہ کو خیبر بھجوایا کرتے تھے اور وہ نہایت ہی محتاط تخمینے لگانے میں کامیاب ہوتے رہے۔(9) حضرت عبد اللہ بن رواحہ دربار رسول کے وہ تربیت یافتہ شاعر تھے جن کے حق میں سورۃ شعراء کی آیات 225 تا 228 اتریں۔جو ایمان لاکر اعمال صالحہ بجالانے والے شعراء کو عام شعراء سے ممتاز کر کے پیش کرتی ہیں۔ان آیات کے پیش نظر حضرت عبد اللہ بن رواحہ بجاطور پر کہا کرتے تھے۔کہ خدا تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ ہم جیسے شعراء بھی موجود ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارا بھی ذکر کر دیا اور میں شعراء کے اسی گروہ میں سے ہوں۔