سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 451
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 451 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ جس کا اظہار حضور نے اپنے اس پیارے صحابی کے متعلق ظاہر فرمایا تھا، اس کا حق انہوں نے پورا کر دکھایا۔حضور نے فرمایا تھا کہ ” جب تک مشرکین کے ساتھ تمہاری جنگ ہو۔اس تلوار کے ساتھ اُن سے جنگ کرتے رہنا۔جب وہ زمانہ آئے جب مسلمان باہم لڑنے لگیں اور ایک دوسرے پر تلوار اُٹھا ئیں تو یہ تلوار تو ڑ کر اپنے گھر میں بیٹھ رہنا یہاں تک کوئی خطا کار ہاتھ تم پر حملہ آور ہو یا تمہاری فیصلہ کن موت آجائے۔یہ پیشگوئی بعینہ اسی طرح پوری ہوئی۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت محمد بن مسلمہ نے حضور کے اس ارشاد پر لفظاً لفظا عمل دکھایا۔اختلافات کے اس زمانہ میں انہوں نے اپنی تلوار واقعہ تو ڑ کر نہایت زیر کی سے لکڑی کی ایک تلوار بنا کرمیان میں لٹکادی، کسی نے کہا لکڑی کی تلوار رکھنے سے فائدہ؟ کہنے لگے اس کی حکمت یہ ہے کہ رعب تو رہتا ہے کہ تلوار موجود ہے لیکن چونکہ آنحضور کا حکم ہے اس لئے اب لوہے کی تلوار تو میں نہیں رکھوں گا۔اور یہ کڑی کی تلوار کسی کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔(8) فتنہ سے کنارہ کشی آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں حضرت محمد بن مسلمہ نے جس طرح فتنوں کے زمانے میں اپنے آپ کو بچایا ہے اس کا ذکر ایک صحابی حضرت حذیفہ بن الیمان ( جن کو فتنے کے بارہ میں بہت روایات یاد تھیں ) بیان کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت حذیفہ کہتے تھے کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں۔جس پر فتنہ نے ذرہ برابر بھی کوئی اثر نہیں کیا اور وہ فتنہ سے کچھ بھی متاثر نہیں ہوئے۔کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے تو انہوں نے کہاہ وہ محمد بن مسلمہ انصاری ہے جس کا فتنوں نے کچھ بھی نہیں بگاڑا رسول اللہ علیہ نے ان کے بارہ میں فرمایا تھا کہ کوئی فتنہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔دوسرے انہوں نے آنحضرت معہ کی فتنہ سے بچنے کی نصیحت پر خوب عمل کیا۔چنانچہ ضیعہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ کی وفات کے بعد فتنوں کے دور میں سفر کرتے ہوئے ایک جگہ پر پہنچا تھا تو میں نے دیکھا کہ ویرانے میں ایک خیمہ لگا ہے، میں نے پوچھا یہ کس کا خیمہ ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ محمد بن مسلمہ شصحابی رسول کا خیمہ ہے میں جب وہاں گیا تو ایک بوڑھے کو بیٹھے ہوئے دیکھا میں نے کہا اے بزرگ ! اللہ تجھ پر رحم کرے، مجھے ایسے لگتا ہے کہ آپ