سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 405
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 405 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ان روایات کے تنوع سے حضرت ابی گا بلند علمی ذوق خوب ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً دجال کے بارے میں حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت کہ اس کی ایک آنکھ بہت تیز روشن ہوگی مصفے آئینہ کی طرح۔یوں دجال کی بائیں آنکھ (یعنی دنیاوی بصیرت) کا تیز ہونا اور دنیاداری میں اس کی ہوشیاری اور دین کے لحاظ سے دائیں آنکھ سے محرومی کے مضمون کی طرف ابی بن کعب نے اشارہ کر دیا۔(20) ختم نبوت کا مضمون بھی حضرت ابی نے ایک روایت میں بیان کیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء پر یہ نعمت نبوت جس طرح کمال اور اتمام کو پہنچی اسے خود آنحضرت نے ایک خوبصورت مثال میں یوں بیان فرمایا کہ نبیوں میں میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ اس میں خالی چھوڑ دی۔لوگ اس محل کا حسن دیکھ کر عش عش کرتے تھے۔مگر ایک اینٹ کی خالی جگہ دیکھ کر کہتے تھے کہ کاش یہ بھی مکمل ہو جاتی۔پھر حضور فرماتے تھے فَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوضِعُ هذِهِ الَّلِبَنَةِ کہ میں نبیوں کی عمارت میں اس اینٹ کی طرح ہوں۔(21) یعنی میں نے شریعت کی عمارت کو مکمل کر دیا۔یہ ہے مقام ختم نبوت کہ شریعت کی وہ عمارت جو ہنوز نامکمل تھی۔حضور اکرم کے آنے سے مکمل ہو گئی اب کسی شرعی نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔لیکن اس عمارت شریعت کی آبادی اور صفائی ستھرائی کے لئے خلافت راشدہ کا سلسلہ شروع ہوا۔امت میں ہر صدی پر مجددین اور آخری زمانہ میں مسیح و مہدی کی خبر دی گئی۔چنانچہ علامہ ابن حجر نے بھی اس حدیث کی تشریح میں یہی لکھا ہے کہ تکمیل عمارت شریعت کی اس مثال میں دراصل شریعت کے کمال کا مضمون بیان ہوا ہے کہ شریعت محمد یہ ماقبل شرائع کی نسبت کامل بلکہ اکمل ہے۔رسول اللہ کی فضیلت کا یہ مضمون حضرت ابی بن کعب ایک اور حدیث سے یوں بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ” میں قیامت کے دن لوگوں کا امام، ان کا خطیب اور شفاعت کرنے والا ہوں گا مگر یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا ایک انعام اور اس کی عطا ہے۔‘ (22) حضرت ابی بن کعب صوفی المشرب انسان تھے۔آپ حدیث ”حنانہ کے بھی راوی ہیں۔یعنی کھجور کے اس تنے کے رونے کا واقعہ جس کے ساتھ کھڑے ہوکر حضور وعظ فرمایا کرتے تھے۔جب منبر رسول تیار ہو گیا اور اس پر کھڑے ہو کر حضور ﷺ نے خطبہ دینا شروع کیا تو اُس تنے