سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 395
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 395 حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ خاطر اور کسی سے ناراض ہو تو خدا کی خاطر اور جب بندہ ایسا کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی ولایت اور دوستی عطا کی جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے جو میرے اولیاء اور پیارے بن جاتے ہیں تو جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو میرا ذکر کرتے ہیں تو میں بھی ان کا ذکر کرتا ہوں اور میں ان کو یا درکھتا ہوں۔‘(4) رسول کریم ﷺ کی پیار کی نظر حضرت عمرو کو رسول اللہ مے سے بہت محبت تھی۔رسول کریم ﷺ کی شادی پر وہی آپ کے ولیمہ کا انتظام کرتے تھے۔(5) حضرت عمرو بن جموح اور حضرت عبد اللہ بن عمر و انصاری جان شار اور وفا شعار اصحاب رسول تھے جب شہید ہو گئے تو آنحضرت نے ان کی وفاؤں کو خوب یا درکھا اور فرمایا یہ دونوں بھائی دنیا میں بھی بہت محبت کیا کرتے تھے ان کو ایک ہی قبر میں دفن کرد و چنانچہ احد میں وہ دونوں ایک قبر میں دفن ہوئے (6) اور ان کی قبریں بھی باہمی الفت و محبت کا ایک عجیب نشان بن گئیں۔روایت ہے کہ قریباً نصف صدی بعد جب سیلاب آیا اور اس کے نتیجے میں ان بزرگوں کی نعشیں زمین سے باہر نکل آئیں۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ان شہداء کی نعشوں کی ایک عجیب حفاظت کی شان ہم نے دیکھی کہ وہ اس حالت میں تھیں کہ ان کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوا تھا۔(7) اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ظاہری نشان بھی اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں اور اولیاء کے بارہ میں ظاہر کرتا ہے۔-1 -2 - 2 3 4 5 6 N -4 -5 -6 -7 اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 93 اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 94 اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 94 مسند احمد جلد 3 صفحہ 430 اصابه جز2 صفحہ 529 مسند احمد جلد 5 صفحہ 229 حواله جات موطا امام مالک کتاب الجہا د باب الدفن فی قبر واحد