سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 350
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 350 حضرت ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ دے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آجکل ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ”اچھا جب ہمارے پاس کوئی قیدی وغیرہ آئیں تو یاد کروانا تمہارے لیے کسی خادم کا انتظام کر دیں گے۔‘اس کے کچھ عرصے بعد آنحضور ﷺ کے پاس دو غلام آئے۔آپ نے ابو الہیثم کو خود یاد کر کے فرمایا کہ ان دونوں میں سے جو چاہو چن لو، میں یہ خادم آپ کو تحفہ میں دیتا ہوں“ حضرت ابوالہیشم کی وفا شعاری ملاحظہ ہو کہنے لگے یا رسول اللہ یا اللہ ! آپ ان دونوں میں سے جو میرے لئے پسند کریں گے اس میں زیادہ برکت ہوگی۔میری خواہش ہے کہ آپ خود میرے لئے ایک خادم کا انتخاب فرما دیں۔نبی کریم نے فرمایا ” جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔پھر ان میں سے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا ” یہ خادم لے لو میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور میری نصیحت ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ابو الہیثم اس خادم کو گھر لے گئے تو وہی نصیحت اپنی بیوی کو بھی کی۔آنحضرت ﷺ نے یہ خادم ہمیں دیتے ہوئے حسن سلوک کا ارشاد فرمایا ہے۔تم نے اس سے کام لینا ہے۔حضور کے حکم کا خیال رکھنا۔ابوالہیثم کی بیوی بھی نہایت اطاعت شعار خاتون اور آنحضور سے محبت کرنے والی تھیں، وہ کہنے لگیں کہ اے ابوالہیثم ! پھر اس کا حق تو تبھی ادا ہو گا کہ تم اس غلام کو آزاد کر دو۔ابوالہیثم نے اسی وقت اعلان کیا کہ خدا کے رسول کی خاطر آج سے میں نے اس غلام کو بھی آزاد کر دیا۔آنحضرت نے اس موقع پر فرمایا کہ ”مہر نبی کا کوئی نہ کوئی قریبی ساتھی ہوتا ہے۔جن سے وہ راز داری کی باتیں کرتا ہے وہ اسے نیکی کی تلقین کرتا اور برائی سے روکتا ہے۔اور ایک راز دان یا مشیر برے مشورے دیتا ہے۔جو شخص ایسے برے دوست سے بچایا گیا وہ محفوظ ہو گیا۔حضور ﷺ کا ایک مطلب تو ظاہر تھا کہ ”ہر نبی کا ایک ساتھی اور راز دان ہوتا ہے۔(7) دوسرے یہ اشارہ تھا کہ بیوی بھی ایک مشیر ہوتی ہے اس کی صورت میں بھی ابوالہیثم کواللہ تعالیٰ نے اچھا مشیر عطا کیا ہے۔شہادت ایک روایت کے مطابق حضرت ابوالہیثم کی وفات 20 ہجری میں ہوئی بعض اور روایات میں ہے کہ جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شرکت کی اور اس میں شہادت پائی۔(8)