سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 349
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 349 حضرت ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ خادم یا نو کر نہیں تھا۔یہ مبارک قافلہ جب انکے گھر پہنچا تو حضرت ابوالہیثم کی بیوی نے خوش آمدید کہا۔ابوالہیشم کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں وہ پانی لینے گئے ہوئے ہیں۔کسی قدر انتظار کے بعد وہ آگئے۔حضور کو اپنے گھر میں دیکھ کر اکی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پانی کا برتن رکھتے ہی وہ دوڑے چلے آئے اور آکر آنحضرت سے لپٹ گئے۔حضور پر اپنی جان ومال وار نے لگے۔میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! یا رسول اللہ خدا کا شکر ہے کہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے۔پھر عرض کیا کہ حضور آئیں میرے باغ میں تشریف لے چلیں۔وہاں جا کر انہوں نے ایک چادر بچھا دی جس پر آنحضور تشریف فرما ہوئے۔کھجوروں کا موسم تھا ابوالہیشم نے بھی بھانپ لیا کہ حضور ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فوری طور پر کچھ کھانے کیلئے پیش کرنا چاہیے۔وہ کھجور کے درخت سے جلدی سے ایک خوشہ کاٹ کر لے آئے جس میں کچے پکے ڈو کے بھی تھے اور پکی ہوئی کھجوریں بھی اور وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابو الہیثم تم پکی پکی کھجور میں چن کر کیوں نہیں لے آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے چاہا آپ اپنی پسند کے مطابق پکی کھجور میں یاڈو کے خود چن کر کھا لیں۔ابوالہیشم نے پھلوں کا یہ تحفہ پیش کرنے کے بعد سب کو پانی وغیرہ پلایا۔آنحضور اور آپ کے اصحاب نے کھجوریں کھائیں اور نبی کریم ﷺ نے شکر نعمت کا مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا ” خدا کی قسم ! یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم قیامت کے دن پوچھے جاؤ گے، یعنی ٹھنڈا سایہ، تازہ کھجوریں، پینے کیلئے ٹھنڈا پانی یہی تو نعمتیں ہیں جن کا شکر ہم سب پر واجب ہے۔ابوالہیثم اس دوران کھانے کا انتظام کرنے کیلئے جانے لگے تو حضور نے ان کے غیر معمولی اخلاص کے پیش نظر نصیحت فرمائی کہ دیکھنا ابوالہیثم اپنی کوئی ایسی بکری ذبح نہ کر دینا جو دودھ دینے والی ہو مبادا تم دودھ سے محروم ہو جاؤ۔چنانچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ہدایت کی روشنی میں ایک چھوٹا سا بکر وٹا ذبح کیا اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔رسول کریم علیہ کا تحفہ اور اس کی قدردانی حضور ﷺ کا اپنے صحابہ کے ساتھ کمال شفقت کا سلوک ہوتا تھا۔آپ نے ابو الہیثم کو جب گھر میں خود کام کاج کرتے دیکھا تو فرمایا ” کیا گھر میں کوئی خادم نہیں ہے جو تمہاری مدد کر