سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 346
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 346 حضرت ابوالہیثم انصاری حضرت ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ حضرت ابوالہیثم بن القیبان الانصاری کا تعلق اوس قبیلے سے تھا۔اصل نام مالک بن بلتی تھا والد کا لقب التیہان تھا۔مگر آپ اپنی کنیت ابوالہیثم سے مشہور ہوئے۔والدہ لیلیٰ بنت عقیک قبیلہ بلی سے تھیں۔ابن اسحاق کے مطابق آپ بنی عبد الاشہل کے حلیف تھے۔(1) قبول اسلام حضرت ابوالہیثم کو بھی ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔وہ حضرت اسعد بن زرارہ کے ساتھ دوسرے نمبر پر اسلام قبول کرنے والے تھے اور ان چھ افراد میں شامل تھے جو عقبہ میں مدینہ کے پہلے وفد کے طور پر آنحضرت ﷺ سے ملے۔پھر بیعت عقبہ ثانیہ میں اولین بیعت کرنے والوں میں سے تھے۔انصار کے قبیلہ بنی عبد الاشہل کے آپ نقیب تھے۔اپنے قبیلے سے غیر معمولی محبت اور قربانی کا اظہار اس طرح کرتے تھے کہ میرا مرنا اور جینا میرے قبیلے کی خاطر ہو چکا ہے۔ابوالہیثم انصار کے ایک اور وفا شعار سردار حضرت اُسید بن حضیر کے چچا زاد بھائی تھے۔حضرت اسعد کے ساتھ انکی دوستی تھی یہ دونوں آغاز سے ہی تو حید پرست تھے۔انہیں اسی سعادت ازلی کی بناء پر انصار مدینہ میں سے اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔پھر مدینہ آکر ابتدائی زمانے میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہوئی۔(2) ایثار و وفا بیعت عقبہ کے دوران اپنے دوست حضرت اسعد کی طرح حضرت ابوالبشیر نے بھی کمال وفا اور ایثار کا نمونہ دکھایا ہے۔جب نبی کریم ﷺ اور انصار کے مابین معاہدہ طے ہور ہا تھا اور حضرت براء انصار کے نمائندہ کے طور پر گفتگو کر رہے تھے۔حضرت ابو الہیثم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے اور بعض دیگر قبائل کے درمیان باہمی مدد کے کچھ معاہدے ہیں جب ہم اسلام قبول کر لیں