سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 339
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 339 حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیعت کی حقیقت بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعہ پر انکی دانش اور سنجیدگی کا اظہار حضرت عبادہ بن صامت کے بیان کے مطابق اس طرح ہوا کہ بیعت کے وقت حضرت اسعد بن زرارہ نے آنحضرت ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ اے لوگو! جانتے ہو کہ کس بات پر تم نبی کریم کی بیعت کر رہے ہو۔اس کی حقیقت سمجھ کر بیعت کرنا، یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تمہیں سارے عرب کے ساتھ جنگ مول لینی پڑے گی ،تمام عجم کے ساتھ تمہاری لڑائی ہوگی اور تمام جن وانس کے ساتھ برسر پیکار ہو جاؤ گے ، انہوں نے بھی کیا خوب جواب دیا کہ ”ہاں اس شعور کے ساتھ ہم بیعت کر رہے ہیں کہ جو آنحضرت سے جنگ کرے گا ہم اس سے جنگ کریں گے اور جو آپ سے صلح کرے گا ہم اس سے صلح کریں گے، پھر بھی حضرت اسعد بن زرارہ نے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس وقت بیعت کے موقع پر آپ جو شرط چاہیں عائد کر دیں، میں اس شرط پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں حضور نے فرمایا ” تم سب اس بات پر میری بیعت کر رہے ہو کہ یہ گواہی دو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور تمہیں سننا اور اطاعت کرنا ہوگی اور باہم اختلاف پیدا نہیں کرنا اور تمہیں میری حفاظت کرنی ہوگی بالکل اسی طرح جس طرح اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہو۔اس پر تمام لوگوں نے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم بلا شبہ اسی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔یہی حضرت اسعد کا مقصد تھا کہ بیعت کی حقیقت سب پر کھل جائے ، اس پر مجمع میں سے آواز آئی کہ اگر یہ سب کچھ ہم نے کیا تو ہمیں کیا ملے گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا "جنت ملے گی اور اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بھی ہمکنار ہو گے۔دوسری روایت میں ہے کہ اسعد نے ( جو عمر میں سب انصار سے چھوٹے تھے ) کہا ”اے اہل میثرب ! ہم محمد رسول اللہ کے پاس صرف اس لئے آئے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور ہمیں خوب علم ہے کہ آج آپ کی بیعت کا نتیجہ میں سارے عرب سے دشمنی مول لینا اور اپنے پیاروں کو قتل کروانا ہے۔پس اگر تو رسول اللہ ﷺ کو قبول کرتے ہو تو اس کا اجر تم کو اللہ تعالیٰ دے گا اور اگر اپنی جانوں کا خوف ہے تو ان کو چھوڑ دو۔انہوں نے کہا اے اسعد ہم انکی بیعت کبھی نہ چھوڑیں گے نہ