سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 338
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 338 حضرت اسعد بن زرارة حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ حضرت اسعد بن زرارہ کی کنیت ابو امامہ تھی جس سے زیادہ مشہور تھے۔والدہ کا نام سعاد الضریعہ تھا۔حضرت سعد بن معاذ رئیس انصار کے خالہ زاد بھائی تھے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا جن سے ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفے ﷺ کا نتھالی رشتہ بنتا ہے۔آپ اسعد کے لقب سے مشہور تھے گویا آغاز سے ہی سعادت مند طبیعت پائی تھی۔سچائی سے فطری لگاؤ تھا۔روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ طبعاً موحد تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے عمارہ بن حزم اور عوف بن عفراء کے ساتھ بنو نجار کے بتوں کے خلاف جہاد کی توفیق پائی۔(1) قبول اسلام اسعد کے قبول اسلام کا واقعہ بھی عجیب ہے اس زمانے میں مدینہ کے مختلف قبائل میں باہم آویزش تھی۔جنگ کی تیاری ہو رہی تھی۔اسعد اپنے ساتھی ذکوان کے ساتھ مکہ میں اپنے ایک سردار دوست عتبہ بن ربیعہ کے ہاں امداد کے طالب ہو کر گئے ، وہیں حضور میلے کے دعوے کی تفصیل کا علم ہوا۔آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضور نے خود انکو اسلام کا پیغام سمجھایا۔قرآن شریف کی تلاوت سنائی۔وہ طبعا پہلے ہی توحید کی طرف راغب تھے۔رسول اللہ کی مؤثر دعوت الی اللہ سے اسلام انکے دل میں گھر کر گیا۔وہ اسلام قبول کر کے واپس مدینہ لوٹے۔روایات میں ہے کہ مدینہ میں انہوں نے خاموشی سے اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کیا اسی کے نتیجہ میں چھ افراد پر مشتمل ایک ابتدائی وفد نے حج کے موقع پر ان کے ساتھ پہلی دفعہ عقبہ مقام پر حضور سے ملاقات کی۔حضرت اسعد بیعت عقبہ ثانیہ میں بھی شامل تھے اور بنو نجار کے نقیب (سردار ) کے طور پر انکو خدمت کی سعادت ملی۔مؤرخ ابن اسحاق نے عقبہ اولیٰ اور عقبہ ثانیہ کی دونوں بیعتوں میں حضرت اسعد کے شامل ہونے کا ذکر کیا ہے۔(2) گواس زمانہ میں انکی عمرکم تھی لیکن سردارانہ فہم وفراست اللہ تعالیٰ نے بہت عطا کی تھی۔